جیل سے مفرور فلسطینی قیدیوں کی تلاش جاری، غرب اردن میں کرفیو پر غور

شیعیت نیوز: اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں مفرور فلسطینی قیدیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام نے غرب اردن میں کرفیو کے نفاذ پرغور شروع کیا ہے۔
خیال رہے کہ 6 ستمبر کو اسرائیلی جیل جلبوع سے چھ فلسطینی قیدی سرنگ کے راستے فرار ہوگئے تھے۔ ان کی تلاش کے لیے اسرائیلی فوج گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
عبرانی نیوز ویب پورٹل ’واللا‘ کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی فون نے غرب اردن اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں کئی مقامات پر گھر گھر تلاشی لی۔ سرچ آپریشن کے لیے فوجی نفری کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔
اس وقت سرچ آپریشن کے لیے غرب اردن کے شمالی علقوں اور سنہ 1948ء کے طمرہ، میسر، طیبہ، جنوبی مثلث اور طولکرم کے بالمقابل علاقوں میں تلاشی جاری ہے۔
عبرانی نیوز ویب پورٹل کے مطابق مفرور قیدیوں کے ممکنہ ٹھکانے کا پتا چلانے کے لیے کئی سیناریوز میں تلاش جاری ہے۔
اسرائیلی حکام کوخدشہ ہے کہ مفرور ہونے والے فلسطینی قیدیوں کو جنین میں معربا اور دوسرے پناہ گزین کیمپوں میں مسلح سیکیورٹی عناصر کی طرف سے مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اردنی شاہی دیوان کے سابق سربراہ کی 15 سال قید کی توثیق
دوسری جانب فلسطین کے مرکزی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو عشروں کے دوران فلسطین میں شرح خواندگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ناخواندگی میں کمی آئی ہے۔
دو عشروں کےدوران فلسطین میں خواندگی کی شرح میں 2 اعشاریہ 5 فی صد اضافہ ہوا۔ یہ تناسب15 سال کے عرصے کے مطابق ہے۔ سال 2000ء کے بعد خواندگی کی شرح 82 فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔
فلسطینی ادارہ شماریات کی یہ رپورٹ عالمی یوم خواندگی کے موقعے پر جاری کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں 8 ستمبر کو ہرسال خواندگی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ سنہ 1997ءکے بعد فلسطین میں ناخواندگی میں نمایاں کمی اور خواندگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سنہ 1997ء سے 2020ء کے دوران فلسطین میں نا خواندگی کی شرح میں 13 اعشاریہ 9 فی صد سے کم ہو کر2 اعشاریہ 5 فی صد تک آ گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ناخواندگی کی شرح میں کمی بچوں اور بچیوں دونوں میں دیکھی گئی۔ بچوں میں یہ کمی 7 اعشاریہ 8 فی صد اور بچیوں میں 20 فی صد سے کم ہو کر3 اعشاریہ 8 فی صد ریکارڈ کی گئی۔