افغانستان کی صورت حال ممکنہ طور پر خانہ جنگی میں تبدیل ہو سکتی ہے، مارک میلی
شیعیت نیوز: امریکہ کے جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف نے افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہونے کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا کہ طالبان افغانستان میں کوئی مضبوط حکومت تشکیل دے سکیں گے۔
امریکی فوج کے سربراہ مارک میلی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کی صورت حال ممکنہ طور پر خانہ جنگی میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں اس ملک میں ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے پنپنے کا امکان ہے۔
یہ ایسی حالت میں کہ افغانستان سے امریکہ کے عجلت میں انخلا اور نتیجتاً اس ملک میں پیدا ہونے والے ہنگامی حالات نیز طالبان کا اقتدار پر قبضہ ہوجانے کی وجہ سے واشنگٹن پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے تاہم امریکی کے حکام مسلسل اپنے اس اقدام کی توجیہ پیش کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی نائـب وزیر خارجہ وکٹوریہ نولینڈ نے کہا تھا کہ امریکہ امید کرتا ہے کہ افغانستان میں طالبان انسانی حقوق کا احترام اور بین الاقوامی قوانین پر عمل کریں گے۔
علاوہ ازیں امریکی فوج کی جانب سے ہتھیار چھوڑ کر افغانستان سے واپس چلے جانے کی بنا پر امریکی صدر اور امریکی وزارت جنگ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جنگ یمن کے مجرم برطانیہ نے ایران پر الزام عائد
دوسری جانب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے طالبان سے مذاکرات کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان ایک حقیقت ہیں اور اب اقتدار میں ہیں۔
جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے طالبان رہنماؤں سے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طالبان نے پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے لہذا اب طالبان قیادت سے مذاکرات کرنے چاہئیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ اب طالبان اقتدار میں ہیں اور یہ بات چیت اس وجہ سے ضروری ہے کہ ہمیں نہ صرف افغانستان میں پھنسے ہوئے افراد کو باہر نکالنا ہے بلکہ وہاں امدادی کاموں کو بھی جاری رکھنا ہے۔
جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ ہم ان تمام لوگوں کو افغانستان سے نکالنا چاہتے ہیں جنہوں نے جرمن کمپنیوں اور تنظیموں کے ساتھ کام کیا اور اب طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ ڈرے ہوئے ہیں۔







