ظلم کی انتہا، بہاولنگر جلوس عاشورا پرسعودی نواز کالعدم سپاہ صحابہ کےحملے میں 6 سالہ یتیم بچی ماہین بھی شہید ہوگئی
شیعیت نیوز:بہاولنگر میں تکفیریوں کی جانب سے بربریت کی ایک اور مثال قائم کردی گئی، بہاولنگر کی وہابی جامع مسجد جناح کالونی سے مرکزی جلوس عاشورا پر ہونے والے کریکر حملےمیں 6 سالہ یتیم بچی ماہین بھی جام شہادت نوش کرگئی۔معصوم بچی ماہین کے والد چند برس قبل وفات پاگئے تھے ، شہیدہ بچی کا بھائی بھی سعودی نواز کالعدم سپاہ صحابہ کے تکفیری دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہوا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق 10 محرم الحرام یوم عاشور کے دن بہاولنگر کی مرکزی امام بارگاہ جامعہ الزہراؑ سے برآمد ہونے والے مرکزی جلوس عزا پر کالعدم سپاہ صحابہ کے زیر انتظام جامع مسجد جناح کالونی سے 2 ہینڈ گرینیڈ پھینکے گئے جس کے نتیجے میں 3 عزادارشہید ہوئے جبکہ درجنوں عزادارمرد وخواتین شدید زخمی ہوئے جن میں سے 4 کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جاتی ہے ، شہداء میں ایک 6 سالہ بچی ماہین بھی شامل ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: غواڑی میں جلوس عاشورا پر حملہ، یزیدیت زندہ باد کے نعرے،سعودی ایماء پر گلگت بلتستان کو بھی فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش
ذرائع کے مطابق شہیدہ ماہین چند برس قبل اپنے والد اظہار شاہ کے انتقال کے بعد یتیم ہوگئی تھی، شہیدہ کے والد کرنٹ لگنے کے سبب خالق حقیقی سے جا ملے تھے، روز عاشورہونے والے اس سانحے میں شہید ہ ماہین کا ایک بھائی بھی شدید زخمی ہوا ہے جوکہ اسپتال میں زیر علاج ہے ۔
اس المناک سانحےمیں اس 6 سالہ معصوم بچی کی مظلومانہ شہادت نے جہاں ان درندہ صفت تکفیری دہشت گردوں کو بے نقاب کیا ہے وہیں پنجاب کی بےحس حکومت اور متعصب پولیس کے مکروہ چہرے کو بھی آشکار کیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس واقعے میں ملوث کالعدم سپاہ صحابہ کے 2 سفاک دہشت گردوں کو عزاداروں نے رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے بھی کردیا لیکن تاحال کسی مجرم کو سزا نہیں دی گئی ہے۔







