ایران افغانستان کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کوشش کرے گا، صدر مملکت رئیسی
شیعیت نیوز: ایرانی صدر مملکت رئیسی نے کہا ہے کہ ایران افغانستان کے استحکام جو آج اس ملک کی پہلی ضرورت ہے، کے لیے کوشش کرے گا اور ایک پڑوسی اور برادر ملک کی حیثیت سے تمام گروہوں سے قومی معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
یہ بات ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے آج بروز منگل ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ایک ملاقات کے موقع پرکہی۔
ایرانی صدر مملکت رئیسی نے سلامتی ، استحکام اور خوشحالی کو افغان عوام کا حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران افغانستان کے استحکام جو آج اس ملک کی پہلی ضرورت ہے، کے لیے کوشش کرے گا اور ایک پڑوسی اور برادر ملک کی حیثیت سے تمام گروہوں سے قومی معاہدے پر دستخط کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا خیال ہے کہ افغانستان کے مظلوم عوام کاعزم ہمیشہ سلامتی اور استحکام کا سبب ہے۔
ایرانی صدر مملکت رئیسی نے کہا کہ ایران اس ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کا تعاقب کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کےقیام کے لیے پرعزم ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ "فوجی شکست اور امریکہ کا افغانستان سے انخلا اس ملک میں زندگی ، سلامتی اور دیرپا امن کی بحالی کا ایک موقع بننا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : شام کے شہر درعا میں 2 مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا
دوسری طرف ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے افغانستان سے امریکی فوج کی شکست اور انخلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو امریکی فوج کے انخلا کے بعد امن و صلح میں تبدیل کردینا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے وزیر خارجہ کے ساتھ گفتگو میں افغانستان میں امریکی فوج کی شکست اور انخلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو امریکی فوج کے انخلا کے بعد امن و صلح میں تبدیل کردینا چاہیے۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے افغانستان میں امن و صلح و ثبات اور بہبود کو افغان عوام کا حق قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران افغانستان میں امن و صلح برقرار کرنے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لئے آمادہ ہے اور امن و ثبات افغانستان کی اہم ضرورت ہے۔
صدر ابراہیم رئیسی نے ایرانی وزير خارجہ اور ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ افغانستان کے حالات پر دقیق اور مسلسل نظر رکھیں اور انھیں افغانستان کے حالات کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے۔ افغانستان کی سلامتی ایران کی سلامتی ہے۔







