عزاداری کےخلاف جاری کریک ڈاؤن کا خاتمہ نہ ہونے کی صورت میں شیعہ علماءکونسل نےجلوس ہائے عزا کو دھرنوں میں تبدیل کرنے کا اعلان کردیا

16 اگست, 2021 15:43

شیعیت نیوز: سربراہ شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر سربراہ مرکزی محرم الحرام کمیٹی شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ عارف حسین واحدی، سیکرٹری مرکزی محرم الحرام کمیٹی شیعہ علماء کونسل پاکستان سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، کوارڈینٹر مرکزی محرم الحرام کمیٹی شیعہ علماء کونسل علامہ فرحت عباس جوادی، صوبائی جنرل سیکرٹری شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب علامہ سید جعفر حسین نقوی، صدر شیعہ علماء کونسل اسلام آباد نیئر اقبال بلوچ، سینیئر نائب صدر شیعہ علماء کونسل اسلام آباد علامہ سید وزیر حسین کاظمی، ضلعی صدر شیعہ علماء کونسل راولپنڈی علامہ کوثر عباس قمی، ضلعی جنرل سیکرٹری سید نزاکت حسین نقوی و دیگر رہنماؤں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محرم الحرام کے حوالے سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ علامہ سید ساجدعلی نقوی کی جانب سے مرکزی سطح پر محرالحرام کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو پاکستان بھر میں عزاداری کے مسائل و مشکلات پر مسلسل نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکز میں عزاداری مانیٹرنگ سیل قائم ہے، جو چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔

علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 کے مطابق تمام مکاتب فکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اپنے عقائد کے مطابق آزادی کے ساتھ عبادات اور رسومات ادا کریں، جبکہ اعلیٰ عدلیہ سے متعدد فیصلے ہیں کہ کوئی ایگزیکٹو آرڈر یا SOP عوام کے بنیادی حقوق کو غصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ 2 اگست 2021ء کو صدر، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی سیکرٹری داخلہ، کوآرڈینیٹر نیکٹا، صوبائی گورنرز، وزراء اعلیٰ، چیف سیکرٹریز، ہوم سیکرٹریز، آئی جی پولیس کو امن و امان کے قیام، ذمہ دار علماء کرام کے اضلاع میں داخلہ و زبان بندی، مجالس اور جلوس ہائے عزاء پر بے جا پابندیوں، رکاوٹوں، محدودیت، طلبی ضمانتی بانڈز اور NOC کی شرائط جیسے اقدامات سے گریز اور چاردیواری کے اندر روایتی مجالس و جلوسوں کی سکیورٹی یقینی بنانے اور گذشتہ سالوں میں جھوٹی و بلا جواز FIRs اور فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے افراد کے ناموں کے اخراج کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و متعلقہ اداروں کو پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا پر فلسفہ شہادت نواسہ رسول اکرم حضرت امام حسینؑ اور اُن کے آل ؑو اصحاب کی عظیم قربانی کے اعلیٰ و ارفع مقاصد سے آگاہی کے لئے خصوصی پروگرامز نشر اور ٹیلی کاسٹ کے خطوط بھی ارسال کیے گئے تھے۔ تاحال کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: امام حسین ؑ نے قران و اہلبیت ع کو مضبوط ڈھال بنا کر اسلام کے خلاف یزیدی فتنوں کو ناکام بنایا، علامہ راجہ ناصرعباس

انہوں نے مزید کہا کہ وطن عزیز میں متعدد تقریبات، جلوس اور ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں، مجالس حضرت امام حسین ؑ و جلوس ہائے عزاء میں رکاوٹیں ڈالنا ایک خاص ذہنیت کی عکاسی ہے۔ ملک بھر بالخصوص پنجاب میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز، غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات اور اعلیٰ عدلیہ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی، ذمہ دار علماء کرام کی اضلاع میں داخلہ و زبان بندی، جھوٹی و بوگس رپورٹس کو بنیاد بنا کر بانیان مجالس و جلوس عزاء سے زبردستی ضمانتی بانڈز کی طلبی، برسوں سے جاری روایتی پروگرامز کو محدود یا ختم کرنے، اندر چار دیواری مجالس عزا کے انعقاد پر دھونس، دھاندلی، دھمکی اور توہین و تضحیک آمیز رویئے کے ساتھ ساتھ فورتھ شیڈول میں ڈالنے، گرفتاریاں اور نظربندیاں بھی کی جا رہی ہیں، جو بلا جواز اور توہین آمیز ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں سالہا سال سے جاری روایات کے برعکس ایسا کیا جار ہا ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک بھر میں شدید غم و غصہ، اشتعال و اضطراب اور تشویش پائی جاتی ہے۔

علامہ عارف واحدی کا مزید کہنا تھا کہ آپکی وساطت سے حکمرانوں اور سرکاری اہلکاروں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ قائد اعظم کے ویژن کے مطابق جن مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں لایا گیا تھا، مذکورہ زیادتیاں ان مقاصد کے سراسر خلاف اور متصادم ہیں۔ ملک کے پرامن حالات کو خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے حکمران، تکفیری مائنڈ سیٹ اہلکاران کو تکفیری ایجنڈے پر عمل درآمد کرانے سے باز رکھیں اور ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں اور چھپے تکفیری مائنڈ سیٹ اہلکاران کی جگہ آئین و قانون کی پاسداری کرنے والے ذمہ دار اہلکاران کو تعینات کیا جائے، تاکہ کسی غلط رپورٹنگ کے نتیجہ میں ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے سے بچایا جاسکے۔ یہ بات روز اول کی طرح اظہر من الشمس ہے کہ عزاداری سید الشہداؑ کے فروغ کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر 13 اگست 2021ء کو وفاقی وزیر داخلہ اور صوبائی وزیراعلیٰ پنجاب کو فوری ملاقات کے لئے خطوط ارسال کیے تھے، تاحال ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جو باعث تشویش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی صورتحال،9محرم الحرام کو نشتر پارک سے قومی پالیسی کا اظہار کریں گے،علامہ شہنشاہ نقوی

آخر میں علامہ عارف واحدی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر آئینی و غیر قانونی ہتھکنڈوں سے عوام کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات ایک مکتب فکر کے ساتھ کھلی زیادتی اور عزاداری کیخلاف کریک ڈاؤن ہے۔ پہلے مرحلے میں کرونا ایس او پیز کے تحت ملک بھر میں ہر مجلس اور جلوس میں انتظامیہ اور پولیس کے خلاف قراردادیں پاس کی جائیں گی اور عوام کو عزاداری کیخلاف ہونے والی سازش سے آگاہ کیا جائے گا۔ اگر حکومت نے صورتحال میں بہتری نہ لائی، غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کا یہ سلسلہ جاری رکھا اور عزاداری کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن نہ رکا تو جلوس ہائے عزاء کو دھرنوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہ سکتے ہیں، جیل بھرو تحریک پر مجبور نہ کیا جائے۔

1:40 صبح مارچ 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔