اسلامی دنیا میں رونما ہونے والے حوادث میں بن سلمان کی غیر حاضری کا راز

شیعیت نیوز : سعودی حکومت کے ایک مخالف جمانہ الصانع نے آل سعود حکومت کے جبروں کی شدت پر زور دیتے ہوئے عرب اور اسلامی دنیا کے نازک دور کے دوران سعودی ولی عہد کی مسلسل عدم موجودگی اور اس کی وجوہات کا انکشاف کیا۔
لواقائع السعودی کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کی مخالفت کرنے والے ایک حجازی کارکن جمانہ الصانع نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عرب اور اسلامی دنیا کے ایک نازک وقت پر مستقل طور پر غیر حاضر تھے جبکہ اس وقت اس اہم اسلامی ریاست کےسخت مؤقف کی ضرورت تھی پر حقیقت کی حمایت کے اظہار میں سعودی عوام کے رد عمل کے باوجود اس ملک کے حکام کا مؤقف کمزور ہی رہا۔
جمانہ الصانع نے کہا کہ اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
الصانع نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عوام اورسماجی کارکن سعودی ولی عہد شہزادہ کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف ان کے اقدامات سے خوفزدہ ہیں ، خاص طور پر مذکورہ سعودی کارکن نے بار بار ذرائع کو بتایا ہے کہ محمد بن سلمان نشے کے عادی ہیں نیز تنقیدی سعودی صحافی جمال خاشقجی ، کے قتل کے فیصلے میں ان کا اہم کردار تھا۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے موساد کے نئے سربراہ کے ساتھ تعلقات کا انکشاف
سعودی حزب اختلاف نے کہا ہے کہ سعودی عوام صہیونیوں کے خلاف فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں تو انھیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہےجس میں طویل قید کی سزا اور بعض اوقات جھوٹے الزامات کے تحت پھانسی بھی شامل ہوتی ہے۔
جمانہ الصانع نے مزید زور دے کر کہا کہ محمد بن سلمان کے طرز عمل متضاد ہیں، جب کچھ سعودی عہدے داروں نے مزاحمتی تحریک اور فلسطین کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کرنے پر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ پر حملہ کیا تو سعودی ولی عہد شہزادہ نے ایران کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب کھولا اور ایران کے ساتھ تعاون کی خواہش ظاہر کی،ا نہوں نے کہاکہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں سعودی عرب ایک بہت بڑی جیل بن گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ دس سال قید کی سزا ان اعمال کی سزا ہے جو سعودی ولی عہد شہزادہ پسند نہیں کرتے ہیں ہیں جبکہ ان کی حکومت پر تنقید کرنے والوں کو 20 سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے اور جو لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے،شائستہ اور پرامن مخالفت کی صورت میں لاش کے بھی ٹکڑے کر دیے جاتے ہیں، 2021 کی غزہ جنگ کے آغاز پر سعودی حکام نے ایک سعودی کارکن کو گرفتار کیا،کیونکہ اس نے سعودی جیلوں میں موجود فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا،اس کا کیا حشر ہوا ابھی تک معلوم نہیں ۔
یہ بھی پڑھیں :
سعودی کارکن نے مسئلہ فلسطین کے سلسلہ میں محمد بن سلمان کی عدم موجودگی کی وجوہات اور ملک کے مسائل کے بارے میں مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی نظریہ کے علاوہ ماہرین نے سعودی ولی عہد شہزادہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملاقاتوں اور میڈیا میں اپنی موجودگی کو کم کریں، انہوں نے مزید وضاحت کیکہ منشیات کے استعمال سے ان کے طرز عمل پر غیر معمولی اثر پڑا ہے ، جبکہ میڈیا میں موجودگی کے دوران اس کے ہاتھ اور چہرے کی حرکتیں اس کی عکاسی کرتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آل سعود کے رشتہ داروں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور یورپ کے بہت سارے سیاستدانوں کو بتایا کہ محمد بن سلمان منشیات کا استعمال کرتے ہیں،’’ وائٹ ہاؤس کے اندر آگ اور غصہ‘‘ نامی کتاب میں امریکی مصنف مائیکل ولف نے لکھا ہے کہ محمد بن سلمان کوکین کے استعمال کے ساتھ ویڈیو گیم کی لت کے دائمی مسئلے کا شکار ہیں۔