اہم ترین خبریںسعودی عرب

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، خطے کے اگلے صدام حسین ہیں، سعودی مخالف رہنما

شیعیت نیوز: سعودی عرب کے ایک حکومت مخالف رہنما نے کہا ہے کہ اگر اس ملک کے ولی عہد اپنے کاموں کو جاری رکھتے ہیں تو ہم علاقے میں ایک نئے صدام حسین کو دیکھیں گے۔

عمر عبدالعزیز نے محمد بن سلمان کو سعودی عرب کے ولی عہد کے عہدے سے ہٹائے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وہ علاقے کے نئے صدام حسین ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آل سعود خاندان میں اس عہدے کے لیے کئی اور آپشن ہیں، حالانکہ مجھے وہ لوگ پسند نہیں ہیں، لیکن ان میں سے کچھ کو رہا کرنے سے محمد بن سلمان پر دباؤ پڑ جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب میں پوری آزادی سے بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم بن سلمان کی اصلاحات کے مخالف نہیں ہیں لیکن لوگوں کے قتل عام اور ہزاروں لوگوں کی گرفتاری کے بغیر بھی اصلاحات انجام دی جا سکتی ہیں۔

سعودی عرب کے اس حکومت مخالف رہنما نے کہا کہ محمد بن سلمان پر پابندی لگنی چاہیے کیونکہ ایسا نہیں لگتا کہ انھوں نے ماضی سے سبق لیا ہو۔ عمر عبدالعزیز نے کہا کہ بن سلمان نہ صرف سعودی عرب کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل نوازی، متحدہ عرب امارات کا ایک اور اعزاز

دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اس وزارت سے وابستہ تین فوجیوں کو پھانسی دینے کا اعلان کیا۔

العربیہ کے مطابق سعودی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ تینوں فوجیوں کی سزائے موت غداری کے الزام میں عمل میں لائی گئی ہے۔

بیان کے مطابق ان تینوں افراد کو سعودی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش اور دشمن کے ساتھ تعاون کرنے کا مجرم قرار دیا گیا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (واس) نے بھی سعودی وزارت دفاع کی جانب سے ایک بیان شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پھانسی پانے والے افراد کےنام محمد بن احمد بن یحیی عکام، شاہر بن عیسیٰ بن قاسم حقوی ، حمود بن ابراہیم بن علی حازمی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان افراد کو جنگی جرائم کے ٹریبونل کے حوالے کیا گیا تھا اور ان پر جو الزامات عائد کیے گئے تھے وہ ثابت ہوچکے ہیں۔

واس نے یہ بھی کہا کہ ان افراد کوسعودی عرب کے جنوبی علاقے کی کمان میں آج سزائے موت دی گئی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں کسی پر بھی غداری کا الزام عائد کرنا نہایت آسان ہے کافی ہے کہ سعودی حکام کی پالیسیوں کے خلاف منھ کھول دے تو اس کو غدار کہہ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے پھر اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور بغیر مقدمہ چلائے برسوں کال کوٹھری میں گذارنا پڑتے ہیں،اس سے بھی برھ کر سعودی عہدہ دار اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے بھی اس حربے کو استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button