اہم ترین خبریںمقالہ جات

آخر میرے دھرنے میں جانے سے کیا ہوگا؟

اب میرا دماغ بجلی کی طرح چل رہا تھا، اپنے سارے رابطے، بڑے سرکاری عہدوں پر بیٹھے دوست سب یاد آنے لگے، سب سے فریاد کروں گا، پاؤں پکڑوں گا مگر اپنے لخت جگر کو واپس لاؤں گا

شیعیت نیوز: میں اٹھ چکا ہوں دھرنے سے، گھر واپس جا رہا ہوں! عجیب مذاق ہے، چند عورتیں دس بارہ مرد۔ جب کسی اور کو کوئی دکھ نہیں تو میں کیوں شامل رہوں ان سب میں؟

یہی سوچتا ہوا اپنی گاڑی میں گھر کی طرف روانہ تھا، خیال آیا اپنے اکلوتے بیٹے فرحان کے لیئے کوئی تحفہ خریدتا چلوں، آج اس کی انیسویں سالگرہ تھی کہ اچانک موبائل فون بج اٹھا۔ بیگم کی کال تھی، انتہائی وحشت زدہ لہجہ تھا، رقت آمیز آواز کے ساتھ کہنے لگیں
"ابھی پڑوسن آئی ہیں، بتاتی ہیں فرحان باہر کرکٹ کھیل رہا تھا کہ اچانک ایک کالے شیشوں والی گاڑی آئی جس میں سے چند نقاب پوش برآمد ہوئے اور فرحان کو اٹھا کر لے گئے”۔

اتنا سننا تھا میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا، گاڑی پر گرفت ڈھیلی پڑ گئی، قریب تھا حواس کھو بیٹھتا۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا، گاڑی ایک کونے میں پارک کی اور اپنی سانس بحال کرنے لگا۔ میری یہ حالت بجا تھی، ایک ہی بیٹا جس کو انیس سالوں سے اپنے کلیجے سے لگا کر رکھا ہوا تھا لمحوں میں ظلم کی بھینٹ چڑھ چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شیعہ لاپتا عزاداروں کی عدم بازیابی، کراچی مرکزی دھرنے سےملت جعفریہ کیلئے اہم اعلان کردیا گیا

اب میرا دماغ بجلی کی طرح چل رہا تھا، اپنے سارے رابطے، بڑے سرکاری عہدوں پر بیٹھے دوست سب یاد آنے لگے، سب سے فریاد کروں گا، پاؤں پکڑوں گا مگر اپنے لخت جگر کو واپس لاؤں گا، موبائل اٹھایا اور ایک واقف کار کا نمبر ڈھونڈنے لگا، میرا آنسو موبائل اسکرین پر گرا جسے صاف کرنے کا وقت بھی نہیں تھا میرے پاس، عجلت میں دو تین غلط نمبر ڈائل کردیئے، اسی اثنا میں فون دوبارہ بجا، بیگم کی کال تھی، میرا دل دھک سے رہ گیا، خود کو کسی بہت بری خبر کے لیئے تیار نہیں کر پا رہا تھا، فون مسلسل بج رہا تھا، کوئی دعا یاد نا آئی، میں نے بس "یا اللہ رحم” کہا اور فون اٹھا لیا۔

اگلی طرف سے بیگم قدرے مطمئن مگر دھیمے لہجے میں بولی "فرحان کے دوستوں نے مزاق کیا تھا، اس طرح اٹھا کر سالگرہ منانے کسی ریسٹورنٹ لے گئے ہیں، فون کی بیٹری ختم ہوگئی تھی جبھی رابطہ نہیں ہو رہا تھا” میں نے فقط "اچھا” کہا اور فون بند کر کے گاڑی واپس دھرنے کی طرف موڑ دی۔

یہ بھی پڑھیں: موت العالِم ، موت العالَم۔۔۔آہ شیخ نوروزعلی نجفی اعلی اللہ مقامہ دالبقاءکی جانب کوچ کرگئے

وہ احساس وہ کرب جو ابھی دھرنے میں ایک خاتون کے دل میں دیکھا تھا مگر محسوس نہیں کیا تھا اب کرچکا تھا، بات سمجھ آگئی تھی کہ ملت، قوم، عوام، پبلک کوئی اور نہیں ہم ہی ہیں۔

ہم نے اور سب سے پہلے مجھے شرکت کرنی ہے، میں کروں گا داد رسی سب کی، مجھے بازو بننا ہے سب کا، میں لاؤں گا ان کے پیارے واپس۔چاہے کچھ بھی ہوجائے مگر اب کسی ماں کو اس طرح اپنے جوان کے لئے تڑپنے نہیں دوں گا۔ چہرے پہ بہتے ہوئے آنسوئوں میں اب حوصلہ جھلک رہا تھا، میں اب ایک نئے عزم کے ساتھ اپنے پاک ہدف کی طرف رواں دواں تھا !!

متعلقہ مضامین

Back to top button