2اپریل تک ہمارے تمام شیعہ مسنگ پرسنز رہا نہ کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک بڑھا دیا جائے گا، مرکزی صدر آئی ایس او
انہوں نے کہا کہ لاپتہ کئے گئے جوانوں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو عدالتیں موجود ہیں، ماورائے عدالت جوانوں کو اٹھانے کی پرزور مذمت کرتے ہیں

شیعیت نیوز: امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر عارف حسین جانی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ ابھی تک نہیں رُکا، بغیر کسی ثبوت اور جرم کے ہمارے جوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آخری جوان کی بازیابی تک سراپا احتجاج رہیں گے۔ عارف حسین جانی نے کہا کہ ہم حکومت کو دو اپریل تک کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں، دو اپریل تک ہمارے تمام گرفتار کارکن رہا نہ کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک بڑھا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: منتظرین امام زمانہؑ اس وقت پوری دنیا میں خدا کے دین کی سربلندی کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں، علامہ مقصودڈومکی
انہوں نے کہا کہ لاپتہ کئے گئے جوانوں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو عدالتیں موجود ہیں، ماورائے عدالت جوانوں کو اٹھانے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی حکومتی عہدیدار سے بات کرتے ہیں تو تسلیاں دے دیتے ہیں مگر عملی طور پر کوئی اقدام نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا اس طرح لاپتہ ہونا بنیادی انسانی حقوق کی سریحاً خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیعہ عزاداروں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ نا رک سکا، سابق امامیہ چیف اسکاؤٹ و سینئرکالم نگار سردارتنویر بلوچ اغواء
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری سے بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر دو اپریل تک ہمارے جوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل ملک گیر احتجاج ہوگا۔