10 سال بعد اسرائیلی مسافر بردار طیارے کی ترکی میں لینڈنگ
شیعیت نیوز: اسرائیل کے ایک مسافر بردار طیارے نے 10 سال بعد استنبول میں لینڈنگ کی۔ دوسری طرف ترکی کی ایکسپورٹ یونین نے بتایا ہے کہ جنوری کے مہینے میں سعودی عرب کے لئے ترکی کی برآمدات میں بانوے فیصد کمی آئی ہے۔
ترک صدر کی جانب سے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات میں دلچسپی ظاہر کئے جانے کے بعد صیہونی ذرائع نے اس حکومت کے ایک مسافر بردار طیارے کے استنبول ایئرپورٹ پر اترنے کی خبر دی ہے۔
صیہونی اخبار یدیعوت آحارنوت نے صیہونی حکام کے حوالے سے اتوار کو ایک رپورٹ میں لکھا کہ دس سال بعد، اسرائیل کا ایک مسافر بردار طیارہ، سنیچر کی شام کو استنبول کے ایئرپورٹ پر اترا۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی فوجداری عدالت کی پراسیکیوٹر کو فلسطین میں جنگی جرائم کی تفتیش کا اختیار مل گیا
واضح رہے کہ ظاہری طور پر ترک حکام صیہونی حکومت کے خلاف موقف رکھتے ہیں لیکن پردے کے پیچھے ان کے تعلقات خاص طور پر تجارتی تعلقات کبھی ختم نہیں ہوئے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ترکی نے متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کے قیام کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔
صیہونی حکومت کا مسافر بردار طیارہ ایسی حالت میں استنبول کے ایئرپورٹ پر اترا کہ حال ہی میں میڈیا ذرائع نے تل ابیب- انقرہ کی قربت کی خبر دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : شام کی وزارت خارجہ کا صوبہ حلب میں ترکی کی اشتعال انگيزی کی مذمت
دوسری جانب ترکی کی ایکسپورٹ یونین کی فراہم کردہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری کے مہینے میں سعودی عرب کے لئے ترکی کی برآمدات میں بانوے فیصد کمی آئی ہے۔
ترکی کی ایکسپورٹ یونین نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ جنوری کے مہینے میں سعودی عرب کے لئے ترکی کی برآمدات، گزشتہ سال کی بائیس کروڑ دس لاکھ ڈالر مالیت کی برآمدات کی جگہ صرف ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر مالیت کے برابر رہی ہے۔
اکتوبر دو ہزار اٹھارہ میں سعودی عرب کے حکومت مخالف صحافی جمال خاشقچی کے قتل میں ملوث ہونے کے بارے میں ترکی کی عدالت نے سعودی حکام کے خلاف فرد جرم عائد کر دی تھی جس کے بعد ریاض نے ترکی کی معیشت کو نشانہ بنانے کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔







