مقبوضہ فلسطین

اسرائیلی پولیس کی موجودگی میں یہودی آبادکاروں کی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی

شیعیت نیوز: اسرائیلی پولیس فورسز کی مدد سے کئی یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی کی بے حرمتی کی۔

اطلاعات کے مطابق 196 سے زیادہ آباد کار جن میں انسٹیٹیوٹ کے طلباء اور انٹیلیجنس افسران  مراکشی دروازے  کے ذریعے مسجد میں داخل ہوئے اور گروپوں میں اس کے صحن کی بے حرمتی کی۔

اسی دوران انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں صہیونی آبادکاروں کے ایک گروہ کو دکھایا گیا جومسجد اقصیٰ کے سلسلہ دروازے پر  اشتعال انگیز رقص کر رہے تھے۔

آباد کاروں کے ایک گروہ نے دوسری مرتبہ  بھی کوشش کی کہ  یہودی کینڈلبرم (مینوراح) کو ایک مذہبی  موقع پر اسلامی مقدس مقام میں لائیں۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کو متحدہ عرب امارات سے یاری مہنگی پڑ گئی،بڑی خبر سامنے آگئی

گذشتہ کل چند صہیونی آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ کے محافظوں نے مقدس مقام میں روشنی کا فانوس لانے سے روکا تو انہوں نے  اشتعال انگیزی سے اسے مسجد کے عصبہ دروازے پر نصب کر دیا ۔

آج صبح کے دوروں میں صہیونی پولیس افسروں نے اقصیٰ کے محافظوں کے سربراہ پر تشدد کیا اور اسے گرفتار کرنے کی دھمکی دی۔

دوسری جانبصیہونی ریاست نے مذہبی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ممتاز فلسطینی عالم دین الشیخ سامی فتیحہ پرمسجد اقصیٰ میں داخلے پرپابندی عائد کردی ہے۔ فی الحال یہ پابندی چھ ماہ کے لیے ہے مگر اس میں مزید توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق الشیخ فتیحہ کو گذشتہ روز اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد گرفتار کیا اور انہیں القدس میں باب الاسباط کے مقام پر ایک پولیس چوکی پر لے جایا گیا۔ کئی گھنٹے تک حبس بے جا اور سخت سردی میں رکھنے کےبعد انہیں ایک تحریری نوٹس دیا گیا جس میں‌کہا گیا کہ اعلیٰ حکام نے ان کے مسجد اقصیٰ اور حرم قدسی میں داخلے پر چھ ماہ کی قابل توسیع پابندی عائد کی ہے۔ ساتھ ہی نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں‌نے اس پابندی کی خلاف ورزی کی انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

خیال رہے کہ الشیخ فتیحہ کی یہ پہلی گرفتاری یا مسجد اقصیٰ سے بے دخلی نہیں۔ انہیں اس سے قبل کئی بار قبلہ اول میں نماز کی ادائیگی سے روکا گیا ہے۔

فلسطینی عالم دین کو ایک ایسے وقت میں مسجد اقصیٰ سے بے دخل کیا گیا ہے جب دوسری طرف یہودی آباد کار اپنا ایک مذہبی تہوار منا رہے ہیں۔

وادی حلوہ انفارمیشن مرکز کے مطابق سال 2020ء کی پہلی شش ماہی کے دوران اسرائیل نے القدس کے 236 فلسطینیوں کو بے دخلی کی سزائیں دیں۔ ان میں سے 206 کو مسجد اقصیٰ سے بے دخل کرکے انہیں مقدس مقام تک رسائی سے روکا گیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button