”جنازہ کیا تھا مجلس حسین ؑبرپا تھی “
جنازہ نکلنے کے لئے تیار تھا اور پھر نوحہ ”میں بار بار کہتا رہا میں حسین ع ہوں “ شروع ہوگیا ۔سینے پر ہاتھ لگنے کی آوازوں سے جوہری صاحب کا وہ جملہ یاد آگیا کہ یہ تمھارے سینے پر لگتے ہاتھ یزید وقت کے منھ پر طمانچہ ہے۔ علم مولا عباس ع جس کا پٹکا سبز رنگ کا تھا وہ لایا گیا اور جنازہ کے ہمراہ بلند ہوگیا۔ ماتم داری جاری تھی۔گریہ و زاری جاری تھی۔علامہ کے فرزندوں پر نظر پڑی۔آنسو نہ دیکھ پایا پر سینوں پر لگتے ہاتھوں سے محسوس ہوا کہ غم بس حسین ع کا ہے ۔اور اپنے غم کو حسین ع کے غم سے کم کیا۔ جنازہ اب ضریع مولا حسین ع کے زیارت کے لئے گیا اور دل کہتا ہے آج اِس مقام پر قیام کرنے والے فرشتے جو شام غریباں سنتے رہیں ہونگے وہ آج گریہ کناں ہونگے۔ علامہ نے وہاں شاید آخری بار مصائب بھی سنائیں ہوں اور پھر وہاں سے طواف کے بعد اس عَلم کے زیارت کو گئے جس کے علمدار سے علامہ ع کو خاص رغبت تھی ۔ عجب عشق تھا علامہ کو اس علم والی ہستی سے۔ ماتم جاری تھا۔ جلوس جاری تھا۔سینہ کوبی و سرکوبی جاری تھی۔
خواتین بھی آہ و زاری میں مبتلا تھی۔ گرمی تھی پر غم زیادہ تھا۔ حبس تھا پر گریہ زیادہ تھا۔ گھٹن تھی پر حزن و ملال زیادہ تھا۔ لوگ بے ہوش ہورہے تھے پر حوصلہ وہ ہی تھا جیسے محرم کا کوئی جلوس ہو۔ ۔انچولی کی گلیوں میں سوگواران پھیلے ہوئے تھے معلوم ہوت تھا جیسے کہ آج محرم کی کوئی خاص مخصوصی ہو۔ حسین کے عباس ع کا عَلم آگے آگے اور حسین ع کے ذاکر کا جسد خاکی پیچھے پیچھے ۔ پیاس کی شدت زیادہ تھی پر دکانیں بند تھی آخر پانی کا انتظام کہاں سے ہو ۔پھر کیا مجلس برپاتھی جلوس برپا تھا تو سبیل حسین ؑنہ ہو ؟ایسا بھلا ممکن ہوسکتا ہے ؟
گراونڈ کے گرد و نواح میں کئی سبیل حسین ع لگ چکی تھی ۔ٹھنڈا پانی ہی نہیں جوس کا بھی انتظام ہوچکاتھا۔ایسے میں ایک مشک اٹھایا جوان دکھا ہاتھوں میں کوزہ تھامیں۔ یہ کیوں آج تو جنازہ یہ جوان تو جلوس سمجھ بیٹھا۔ ارے حسین ع کاذاکر ہے عباس ع سے منسوب مشک تو ہونگی نہ۔شاید اس جوان کو علامہ کے شام غریباں کے مشک والے مصائب سے لگن ہو تبھی جوان مشک اٹھائیں جلوس کے شرکاء کو سبیل کرارہا ہو۔ اس جوان کے لبوں سے تو کچھ نہ سنا میں نے پر شاید جوان دل ہی دل میں ہائے عباس ع ہائے عباس کہہ رہا ہو۔ نماز جنازہ ہوئی شان سے ہوئی۔ اورپھر علامہ طالب جوہری نے مجلس پڑھی۔ ہاں علامہ نے جیسے ہی مخصوص انداز میں مصائب شروع کئے پنڈال سوگ میں گریہ شروع ہوا۔ اسپیکر میں ریکارڈ ہوئی مجلس جاری تھی اور دل کہتا تھا علامہ ایک بار دوبارہ مائیک تھام لیجیے ۔چند دقیقوں کی زحمت پھر دیجئیے نہ لیکن۔مصائب جاری تھے منھ کا پرسہ و سینہ کوبی بھی جاری تھی۔مصائب ختم ہوئے کہرام مچ گیا ۔
خیموں میں آکےشاہ نے جب الوداع کہا کہرام مچ گیا۔میر حسن نے یہ نوحہ شروع کیا۔ تابوت اب کندھوں پر ۔ ہر ماتمدار بے تاب تھا کہ کندھا دیا جائے۔ ماتم و آہ زاری کے ساتھ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا منزل کی جانب رواں دواں ہوگیا۔
تحریر : مدثر مہدی







