روس میں سابق امریکی فوجی جاسوس کو 16 سال قید کی سزا

16 جون, 2020 17:28

شیعت نیوز : روس میں سابق امریکی فوجی کو جاسوسی کے جرم میں 16 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ روس کی عدالت نے سابق امریکی میرین پال وہیلن پر امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزامات ثابت ہونے پر 16 برس قید کی سزا سنائی ہے۔

پال وہیلن کو دسمبر 2018ءمیں ماسکو کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے پاس سے خفیہ معلومات کی حامل کمپیوٹر فلیش ڈرائیو برآمد ہوئی تھی۔ پال وہیلن کے پاس امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آئرلینڈ کی شہریت موجود ہے، پال وہیلن نے الزامات سے انکار کیا ہے۔

دریں اثنا روس میں جاسوسی کے جرم میں سابق امریکی فوجی پال وہیلن کو قید کی سزا پر امریکہ نے برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے پال وہیلن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کا کہنا ہے کہ روسی عدالت کے فیصلے پر امریکہ شدید غم وغصے کی کیفیت میں ہے، امریکی شہری پال وہیلن کو خفیہ عدالتی کارروائی میں خفیہ شواہد پر سزا سنائی گئی، دفاع کا مناسب موقع بھی نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : یورپی یونین کی بھی امریکی و صیہونی منصوبے سینچری ڈیل کی مخالفت

مائیک پمپئو کا کہنا ہے کہ امریکی شہری کے ساتھ روسی حکام کا رویہ بہت برا رہا، امریکہ پال وہیلن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ روس کی عدالت نے سابق امریکی میرین پال وہیلن کو جاسوسی کے جرم میں سولہ برس قید کی سزا سنائی ہے۔

دوسری جانب روس کی بحریہ نے نیٹو کی شکل میں فرضی دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیاب جنگی مشقیں انجام دی ہیں جن میں اسکندر نامی بموں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روسی بحریہ نے اپنے ان میزائلوں کا استعمال کر کے فرضی دشمن کے میزائل لانچر، فوجی ایئربیس اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کر دیا۔ روس کا یہ اقدام، بحیرہ بالٹک میں نیٹو کی فوجی مشقوں کے جواب میں عمل میں آیا ہے۔ نیٹو کی یہ فوجی مشقیں سولہ جون تک جاری رہیں گی۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس دشمن ممالک کے سوپر سونک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مخصوص ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو نے حالیہ برسوں کے دوران مغرب کے خلاف ماسکو کے بڑھتے ہوئے خطرات کا بہانہ بنا کر روس کی سرحدوں کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں خاصا اضافہ کیا ہے۔

8:22 صبح مارچ 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔