صہیونی وزیر بن گویر کا امدادی کارکنان کے ساتھ وحشیانہ برتاؤ، اسرائیلی اخبار نے بھی ‘کھلی رسوائی’ قرار دیا
شیعیت نیوز : عبرانی اخبار ہاآرتص: بن گویر کا فلوٹیلا امدادی کارکنان کے ساتھ برتاؤ ایک ‘کھلی ہوئی رسوائی’ ہے — اٹلی نے اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا۔ بن گویر کا یہ رویہ قابض رجیم کے اخلاقی زوال اور سادسٹ (دوسروں کو اذیت دینے والی) ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے، حماس۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے بن گویر، قابض، جارح اور نسل پرست صہیونی رجیم کے وزیر داخلہ، کے "گلوبل صمود فلوٹیلا” کے فعالین کے ساتھ برتاؤ کو ایک "کھلی ہوئی رسوائی” قرار دیا ہے جسے اب چھپایا نہیں جا سکتا۔ اخبار کے مطابق بن گویر کا رویہ اگرچہ دیگر اسرائیلی حکام کے مقابلے میں "زیادہ بے باکانہ” لگتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر اسرائیل میں رائج ساختی اور رویاتی معیارات کے مطابق ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بن گویر کو حراست میں لیے گئے فعالین کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب قرآن بورڈ میں اہل تشیع کی نمائندگی: علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر سمیت ممتاز علماء شامل
اس موقع پر انہوں نے یہ انتقامی جملہ بھی کہا: "میں نیتن یاہو سے کہوں گا کہ وہ انہیں کچھ عرصے کے لیے جیل میں میرے حوالے کر دیں۔” اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اٹلی کی وزارت خارجہ نے نسل پرست وحشی رجیم اسرائیل کے سفیر کو طلب کر کے واقعے کی وضاحت طلب کر لی ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے بھی ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ بن گویر کا یہ رویہ قابض رجیم کے اخلاقی زوال اور سادسٹ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ قابض اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں "گلوبل صمود فلوٹیلا” کے جہازوں کو روک کر تقریباً 430 امدادی کارکنان (جن میں 39 ممالک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر، انسانی حقوق کے کارکن اور سیاسی نمائندے شامل تھے) کو حراست میں لے کر بندرگاہ اشدود منتقل کر دیا تھا۔







