اقوام متحدہ میں ایران کا سخت موقف: امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت جنگی جرائم ہے
شیعیت نیوز : اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کا تحفظ محض ایک انسانی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایک قانونی ذمہ داری ہے۔ آج غزہ اور لبنان کی طرح ایران بھی غیر قانونی فوجی حملوں کی زد میں ہے، جس میں شہریوں اور بنیادی تنصیبات کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایروانی نے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 40 دنوں تک جاری رہنے والی اس وحشیانہ جنگ میں شہری تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے میناب کے شہر میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملے کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا، جس میں 168 سے زائد معصوم طالبات شہید ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی فضائیہ کی تاریخ کی بدترین ناکامی: ایران جنگ میں 42 طیارے تباہ ہوئے، امریکی کانگریس
ایرانی مندوب نے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل ایک مستقل رکن کی رکاوٹ کی وجہ سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کو عصر حجر میں واپس بھیجنے، توانائی کے شعبے، اقتصادی ڈھانچے اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی اشتعال انگیز زبان عالمی سطح پر ایک خطرناک روایت قائم کر رہی ہے۔ ایروانی نے زور دیا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کا ساتھ دینے والے تمام ممالک کو ان ہولناک جرائم کی مکمل قانونی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔







