کورونا وائرس،زائرین ِ ایران و عراق ریاستی اداروں کے بدترین امتیازی سلوک کا شکار
شیعت نیوز: ایران سے پاکستان واپس آنے والے زائرین کوکورونا وائرس کی آڑ میں ریاستی اداروں کی جانب سے بدترین امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ تفتان بارڈر پر موجود زائرین کو 14روز آئسولیشن میں رکھنے کے باوجود اچھوت قرار دیا جارہاہے۔ ایران کے علاوہ کسی دوسرے ملک سے واپس پاکستان آنے والی کسی شہری کے ساتھ ایسا سلوک دیکھنے میں نہیں آرہا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولیعہدمحمد بن سلمان کی دبئی کی 11سالہ شہزادی کیساتھ شادی کی کوشش کا تہلکہ خیز انکشاف
واضح رہے کہ عالمی وباءکی صورت اختیار کرنے والا کورونا وائرس ایران نہیں بلکہ چین کے شہر ووہان سے پھیلا ، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایران سے واپس وطن لوٹنے والے زائرین کو پہلے تفتان بارڈر پر پھر مختلف شہروں میں اور آخر میں ان کے گھروں پر پہنچنے کے بعد بھی سکون کا سانس نہیں لینے دیا جارہا۔محکمہ صحت کی ٹیمیں انہیں طرح طرح کےبہانے بناکر تنگ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: شہید ونگ کمانڈر نعمان اکرم نے اہل وطن سے دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کردی
پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا مسلسل ایسا تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے جیسے پاکستان میں کورونا وائرس ایران نے زائرین کے ذریعے منتقل کیاہے ۔ جبکہ میڈیا رپورٹس گواہ ہیں کہ سب سے پہلے پاکستان میں کورونا کے کیسز چین سے واپس آنے والے دو مریضوں میں سامنے آئے تھے ۔ پاکستان کے مقتدر اداروں کو سوچنا چاہئے کہ تفتان بارڈر پر یتیمان آل محمد ع کے ساتھ کیا بیت رہی ہے ؟کیا چین سمیت دنیا کے باقی ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کو بھی زائرین کی طرح امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: زائرین کے سندھ میں داخلے کے خلاف دائر درخواست پر شیعہ علماءکونسل کے حق میں عدالت کا فیصلہ
ایک اطلاع کے مطابق اس وقت بھی 5ہزار سے زائد زائرین تفتان بارڈر پر موجود ہیں جو کہ ریاستی اداروں کی عدم توجہی اور سہولیات کے فقدان کے باعث شدید مشکلات کا شکارہیں ۔ہزاروں خواتین، مرد، بزرگ اور بچے پاکستان ہاؤس میں جگہ کی تنگی کے باعث کھلے آسمان تلے سخت سردی میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔







