نیتن یاہو اور موساد چیف میں اختلافات، ایران جنگ پر داخلی تنازع شدت اختیار کر گیا
شیعیت نیوز : ایران کی سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کے درمیان ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی پر شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں موساد چیف نے وزیراعظم کے ساتھ کسی مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی، جس سے دونوں کے درمیان کشیدگی واضح ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صرف ایران حسینیت کے راستے پر باقی سب نام کے اسلامی ملک جو امریکہ و اسرائیل کے سہولت کار ہیں: شیر افضل مروت
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نیتن یاہو نے موساد پر الزام عائد کیا کہ ایران کی فوجی اور داخلی صورتحال سے متعلق غلط معلومات فراہم کی گئیں، جس کے باعث اسرائیل ایک غیر یقینی نتائج والی جنگ میں داخل ہوا۔
دوسری جانب موساد کا مؤقف ہے کہ درست معلومات فراہم کی گئیں، تاہم جنگ کا فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے کیا گیا اور ممکنہ ناکامی کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بعض ہیبرو ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی جاسوسوں اور حساس معلومات کے لیک ہونے کے معاملے پر بھی دونوں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں فریقین ایک دوسرے پر آپریشنز کی معلومات افشا کرنے کے الزامات لگا چکے ہیں، جس سے بعض کارروائیوں کی کامیابی متاثر ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق موساد نے جنگ سے قبل خبردار کیا تھا کہ جنوبی خلیج میں موجود خفیہ نیٹ ورکس خطرے میں پڑ سکتے ہیں، تاہم ان خدشات کے باوجود کارروائی آگے بڑھائی گئی۔
مزید برآں، اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران میں عوامی بغاوت کے امکانات بھی توقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے، جس پر اسرائیلی قیادت کے اندر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عوامی حمایت بدستور حکومت کے ساتھ ہے، جس سے بیرونی اندازوں پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔







