یمن کے دارالحکومت صنعا پر سعودی طیاروں کی بمباری

سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے شمالی صنعا میں الدیلمی ایئر بیس پر حملے کی کوشش کی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی طیاروں کی پروازوں کے بعد صنعا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور خطرکے سائرن بھی بجائے گئے۔ تاحال سعودی حارحیت میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جیزان، جوف اور حجہ میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں نشانہ بنایا ہے۔عوامی تحریک انصاراللہ کی ویب سائٹ کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے شمالی صوبے الجوف کے علاقوں السویق اور الخنجر میں سعودی اتحاد کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں سعودی اتحاد میں شامل درجنوں کرائے کے فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔جیزان کے علاقے الموسم میں بھی یمنی فوج اور اور عوامی رضاکار فورس کے میزائل حملے میں سعودی اتحاد کے درجنوں کرائے کے فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔سعودی عرب نے امریکہ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کو جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ مشرق وسطی کے اس غریب عرب اور اسلامی کا زمینی، فضائی، اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔سعودی جارحیت اور محاصرے کی وجہ سے ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کئی لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے میں مجبور ہونا پڑا ہے۔یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے جبکہ سعودی اتحاد نے شہری اہداف پر بمباری کرکے یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتالوں اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے۔تمام تر سختیوں اور مشکلات کے باجود یمنی عوام استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ان کی دفاعی طاقت اور توانائیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارتا ہے جس کے نتیجے میں سعودی حکومت اور اس اتحادی یمن میں اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکے ہیں