جے یو آئی کے زیر انتظام مدارس کا بڑا کاروبار ہے، شفقت محمود

10 مئی, 2019 20:06

شیعیت نیوز: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نےمولانا فضل الرحمن کی جانب سے مدارس کی اصطلاحات کی مخالفت کے حؤالے سے کیئے گئے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ یہ بات اتنی سادہ نہیں، جو کہا جاتا ہے کہ مدارس میں لاکھوں طالب علم مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یہ جو مفت تعلیم دی جاتی ہے، کیا علماء کی یا مدراس کی فیکٹریاں ہیں، یہ پیسہ بھی تو لوگ ہی دیتے ہیں، مدرسہ صرف سہولت فراہم کرتا ہے، اس کام سے کوئی نہیں روک رہا، صرف معاشرے کی ضرورت اور طالب علم کے مستقبل کو سدھارنے کیلئے اصلاحات ضرروی ہیں۔ پھر آپ دیکھیں اگر یہ کہا جاتا ہے کہ مدارس ہی لاکھوں طالب علموں کو پڑھا رہے ہیں، اس کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں بچے بچیاں ہیں، جو زیرتعلیم ہیں، اگر حکومت ان کے تعلیمی معاملات کو چینلائز کر رہی ہے تو اس میں کیا حرج ہے کہ مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنیوالوں کو بھی انکا حق دیا جائے اور ریاست اور حکومت ان پر توجہ دے۔

آپریشن رد الفساد: مدارس پر چھاپے مولانا فضل الرحمن ریاست پر برس پڑے

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی اصلاحات کی مخالفت سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہے، دوسرا یہ ہے کہ جے یو آئی جیسے گروپوں کے زیر اثر اور زیر انتظام مدارس ایک کاروبار بھی ہے، انکا تمام گھرانہ اور قریبی رشتہ دار اس میں حصہ دار ہیں، ان سب کے ایک درجن دو دو درجن مدارس چل رہے ہیں، ماشاء اللہ بہت اچھا کاروبار ہے، پھر ساتھ یہ دباؤ ڈالنے کیلئے سیاسی انسٹرومنٹ بھی ہے۔

یہ مدارس میں زیر تعلیم طالب علموں کے نام پہ بہت کچھ کماتے بھی ہیں، ساتھ جب بھی کال دیں وہ سایسی مظاہروں کیلئے اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں، پھر دوسرے سیاسی کارکنوں کی نسبت یہ لوگ زیادہ جذباتی انداز میں میں کام کرتے ہیں، کیونکہ انہیں مذہب اور اسلام کے نام پر سیاست کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملتان میں کئی کنال جگہ مدرسے کے نام پہ لی گئی اور وہاں کئی دکانیں بنائی گئی تھیں، جو غیر قانونی تھیں۔

4:49 شام اپریل 28, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔