شیعہ جبری گمشدگان کے لواحقین کا صدارتی کیمپ آفس کراچی پر دھرنا، بازیابی تک نہ اٹھنے کا فیصلہ
شیعت نیوز: شیعہ جبری گمشدگان کے اہل خانہ کا پیاروں کی بازیابی کیلئے صدر پاکستان کی رہائش گاہ پر دھرنا۔
ہزاروں کی تعداد میں موجود مظاہرین کا اسیران ملت جعفریہ کی رہائی تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان۔
صدر مملک ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات اور مذاکرات کا مطالبہ، سکیورٹی ہائی الرٹ۔
تفصیلات کے مطابق شہر قائد سے جبری طور پر لاپتہ عزاداروں کے اہل خانہ نے ضبط کا دامن چھوٹ جانے کہ بعد آج انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے پیاروں اور عزیزوں کی فوری بازیابی کے لئے صدر مملکت کی کراچی میں موجود رہائش گاہ کا گھیراؤ کرلیا ہے ۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ لوگ اپنے پیاروں کی بازیابی تک احتجاجی دھرناجاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی
مظاہرین سے خطاب کرتےہوئے مسنگ پرسنز کے اہل خانہ ، احتجاجی تحریک کے آرگنائزرز راشد رضوی اور سہیل مرزا نے کہا کہ حکومت ، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مسلسل صدائے احتجاج پر کان نہ دھرا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری آواز بلند کرنے کے باوجود ہمارے پیاروں کی بازیابی کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھائے جانے کے بعد صدر مملک ڈاکٹر عارف علوی کے گھر کے باہر دھرنا دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔
صدر پاکستان ریاست کے باپ کی حیثیت رکھتے ہیں ، اب ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں اٹھیں گے جب تک خود صدر مملکت یہاں تشریف نہیں لاتے اور ہمارے تمام اسیر بازیاب نہیں ہوجاتے۔
انہوں نے مزید کہاکہ کوئی یہ نا سمجھے کہ ہم تھوڑی دیر میں یہاں سے اٹھ کر چلے جائیں گے ہماری برزگ مائیں اور بہنیں گود میں شیر خوار بچوں کے ہمراہ سروں پر کفن باندھ کر گھروں سے نکلے ہیں۔
اب اپنے پیاروں کو لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے ،چاہے رمضان آجائیں یا عید اور محرم ۔
واضح رہے کہ صدر مملکت کی رہائش گاہ پر شعبہ جبری گمشدگان کے اہل خانہ کے دھرنے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہے اور شہر بھر سے مومنین جوک در جوک احتجاجی دھرنے میں شرکت کیلئے پہنچ رہے ہیں۔
اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔
پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری صدر مملکت کی رہائش گاہ اور اطراف کے علاقے میں تعینات ہے جس نے پورے علاقے اور اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔







