مدارس دینیہ سے متعلق امورمحکمہ داخلہ کے بجائے محکمہ تعلیم کے سپردکیئے جائیں، علامہ حافظ ریاض نجفی

25 مارچ, 2019 00:00

شیعیت نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ علامہ حافظ ریاض حسین نجفی کی زیرصدارت مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان سے مدارس دینیہ کے امور وزارت تعلیم کے سپرد کرنے کی ہدایت پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ حکومت بھی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومتوں کی طرح مدارس دینیہ کا مسائل کے حل میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ جامعتہ المنتظر لاہور میں ہونیوالے اجلاس میں مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی، علامہ ملک اعجاز حسین نجفی، علامہ نیاز حسین نقوی، مولانا محمد افضل حیدری، مولانا محمد محسن مہدوی، مولانا بہادر واحدی، مولانا رمضان توقیر، مولانا عبدالمجید بہشتی، مولانا فیاض نقوی، مولانا شاہد نقوی، مولانا ارشد جعفری، مولانا ڈاکٹر سید محمد نجفی، مولانا محمد تحسین، مولانا کرم علی حیدری اور دیگر نے بھی شرکت کی۔
 
غیر معمولی اجلاس میں 3 اکتوبر 2018 کو وزیراعظم عمران خان سے اسلام آباد اور 18 مارچ 2019 کو آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے کراچی میں اتحاد تنظیمات مدارس کی قیادت کی ملاقاتوں کو بھی زیر بحث لایا گیا اور تشویش کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم نے مدارس کے معاملات کو احسن طریقے سے حل کرنے اور دینی تعلیمی مراکز کو وزارت تعلیم سے منسلک کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے وزراء اور علماء پر مشتمل 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی مگر 6 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک اس کا کوئی اجلاس طلب نہیں کیا گیا۔ حالانکہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے غیر رسمی دورہ جامعہ المنتظر کے موقع پر انہیں اس حوالے سے یاد دہانی بھی کروائی گئی تھی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ مدارس کسی بھی عصری یونیورسٹی یا کالج سے کم اہمیت نہیں رکھتے مگر امن و امان کے معاملات کی نگرانی کرنیوالی وزارت داخلہ کے سپرد کرکے اہل علم کی توہین کی جا رہی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ مدارس دینیہ کو وزارت تعلیم سے منسلک کرکے علما کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کیا جائے۔ اجلاس میں ریاستی اداروں کے مدارس سے معاندانہ رویہ کو افسوسناک قراردیتے ہوئے متوجہ کیا گیا کہ جب بھی دہشتگردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار دینی علمی مراکز کے کوائف طلب کرنا شروع کر دیتے ہیں، حتٰی کہ گھریلو خواتین تک کے نام پوچھے جاتے ہیں، یہ تضحیک آمیز پالیسی کو فی الفور ختم کیا جائے۔ وفاق المدارس الشیعہ کے اجلاس میں 18 مارچ 2019 کو مفتی منیب الرحمان کی قیادت میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کراچی میں ہونے والی ملاقات کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ وہ دو ماہ کے اندر اتحاد تنظیمات کی قیادت سے مل کر مسائل حل کرنے کیلئے اجلاس طلب کرنے کا وعدہ پورا کریں گے۔
 
وفاق المدارس الشیعہ کے اجلاس میں اقوام متحدہ سے مربوط این جی او کے تعاون سے وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے بلوائے گئے اجلاس کے بائیکاٹ کی توثیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان جمہوری ملک ہے، جس کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے سرکاری ادارے غیر ملکی این جی اوز کی بجائے مدارس دینیہ کی قیادت سے براہ راست مذاکرات کریں، غیر متعلقہ افراد اور این جی اوز کو اجلاسوں میں نہ بلوایا جائے۔ اجلاس میں اہلسنت عالم دین مفتی تقی عثمانی پر کراچی میں قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کو پاکستان میں امن و امان خراب کرانے کی سازش قرار دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ ملک میں فرقہ وارانہ دہشتگردی سنی شیعہ فقہی اختلافات سے کوئی تعلق نہیں۔

1:55 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top