پاکستان

ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے سانحہ سہیون کی دوسری برسی کا لعل شہباز قلندر کے مزار پر انعقاد

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین ضلع جامشورو کے زیر اہتمام شہدائے سانحہ درگاہ لعل شہباز قلندر سیہون شریف کی دوسری برسی کا عظیم الشان تعزیتی اجتماع گولڈن گیٹ صحن دربار حضرت سخی لعل شہباز قلندر میں منعقد ہوا۔ شہدائے سانحہ سیہون کی برسی کے اجتماع سے ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی، مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی، علامہ مقصود ڈومکی، علی حسین نقوی، علامہ مبشر حسن، علامہ علی انور جعفری، علامہ دوست علی سعیدی، مرکزی صدر اصغریہ علم و عمل تحریک عالم ساجدی و دیگر نے خطاب کیا۔ اجتماع میں آغا منور جعفری، شفقت لانگاہ، ظہیر حیدر، عالم کربلائی، یعقوب حسینی، علامہ بوزری، علامہ اختر عباس نقوی، علامہ سجاد محسنی، علامہ سیف علی ڈومکی، علامہ گل حسن مرتضوی سمیت خانوادہ شہداء، ایم ڈبلیو ایم کارکنان اور زائرین کی بڑی تعداد شریک تھی۔

اجتماع سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں داعش کا وجود بیرونی ایماء پر پھیلایا جا رہا ہے، آج بھارت کی جانب سے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، کشمیر سمیت ملک کے دیگر حصوں میں امریکی، اسرائیلی، بھارتی ایما پر دہشتگردی پھیلائی جا رہی ہے، سانحہ شکار پور اور سانحہ سیہون کے پکڑے جانے والے دہشتگردوں پر فوراً مقدمات چلائے جائیں، سانحہ شکار پور میں ملوث دہشتگردوں کو رہا کرنا ریاست نااہلی ہے، شہدائے سانحہ شکار پور شہدائے کمیٹی سے کئے مطالبات کو اب تک پورا نہیں کیا گیا، صرف بہاولپور میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت شدت پسندی میں ملوث تمام دہشتگرد مدارس کو سرکاری تحویل میں لے، وزیراعظم شیعہ مسنگ پرسن کی بازیابی کیلئے خصوصی نوٹس لیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں کے سبب سانحہ شکار پور، جیکب آباد کے شہداء کے قاتلوں کو اب سزا نہیں ملی، گذشتہ دو سالوں میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اپنے حلقہ میں شہدائے سانحہ سیہون کے قاتل پکڑنے سے قاصر رہے، نااہل سندھ حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے بجائے مساجد و امام بارگاہوں سے سکیورٹی ہٹالی گئی ہے، سانحہ شکار پور وارثان شہداء سے کئے ہوئے 21 نکاتی مطالبات اب تک پورے نہیں ہوئے، سندھ بھر میں مساجد و امام بارگاہوں اور رہنماؤں کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، اسرائیل و آل سعود نے پاکستان میں دہشتگردی کی بنیاد رکھی، سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں قومی مفادات کے برخلاف ہیں، اسرائیل کا وجود عالم اسلام کیلئے بڑا خطرہ ہے، ملکی عوام اسرائیل کے وجود کے خلاف ہے، ملک دشمن طاقتیں دہشتگردی کے ذریعہ ملت جعفریہ کو ختم کرنے کہ مزموم سازشیں کر رہی ہیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ہم بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں، ہمیں یہ مٹی اپنے خون سے زیادہ عزیز ہے، اس ملک میں کسی بھی اندرونی و بیرونی دہشتگرد کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، سانحہ سیہون کے شہداء کے خانوادوں کے ساتھ کھڑے ہیں، سانحہ سیہون شہداء کے خانوادوں کو جب تک انصاف نہیں مل جاتا، ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ 2 سال قبل درگاہ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر دہشتگردی کرنے والے انسان نہیں تھے، امریکہ، اسرائیل، آل سعود عالم اسلام کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید نے کہا کہ کربلا ہمیں درس استقامت دیتی ہے، نجف و کربلا والے اپنی جانیں دینے سے گھبراتے نہیں، مزار قلندر پر دہشتگردی کرنے والے اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہوسکے، آج اہلبیت (ع) کے ماننے والے پہلے سے زیادہ تعداد میں ولی اللہ کی زیارت کیلئے آتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button