عراق حکومت کی تشکیل میں امریکہ رکاوٹ
عراق میں مئی دو ہزار اٹھارہ میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے تاہم عراق کی نئی پارلیمنٹ اب تک صرف دو بار اجلاس تشکیل دے سکی اور صرف پارلیمنٹ کے نئے اسپیکر کا نام سامنے آسکا جبکہ عراق کے نئے صدر اور نئے وزیر اعظم کا اب تک انتخاب عمل میں نہیں آ سکا ہے۔
عراق میں وزیر اعظم ہی اصل اختیارات کا حامل اور وہی ملک میں اہم ترین سیاسی اقتدار کا بھی مالک ہوتا ہے مگر عراق میں حکومت کی تشکیل میں امریکی رخنہ اندازی کی بدولت اب تک وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں نہیں آسکا ہے۔
داعش مخالف نام نہاد اتحاد میں امریکہ کے خصوصی نمائندے میک گورک، بغداد میں امریکہ کے سفیر اور اسی طرح امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن ایسے امریکی عہدیدار ہیں جو اعلانیہ طور پر عراق میں بھرپور مداخلت اور حکومت کی تشکیل میں اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واشنگٹن کی حکومت عراق میں آئندہ حکومت کی تشکیل میں مداخلت کر کے اس ملک میں اپنی آلہ کار حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس، مختلف قسم کی خلاف ورزیاں کر کے اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ وزارت عظمی کے عہدے پر فالح فیاض یا عادل عبدالمہدی جیسی شخصیات نہ آسکیں۔
اس سلسلے میں امریکہ کے ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے اپنے مداخلت پسندانہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کو اس بات کی اجازت نہیں دینا چاہئے کہ عراق میں ایسا کوئی وزیر پیٹرولیم بن سکے جو ایران سے قریب ہو۔
ڈیفینس وان فوجی ویب سائٹ نے بھی ایک اعلی امریکی عہدیدار کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ عراق کا وزیر اعظم اگر کوئی ایسی شخصیت بنی جو ایران سے قریب ہو گی تو امریکہ عراق کے لئے اپنی تمام اقتصادی و فوجی امداد بند کر دے گا۔
اس سلسلے میں مائیکل نائٹس کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی حکومت کی مداخلت سے عراق کے لئے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں اور اس طرح عراق کی آئندہ حکومت کی توانائی بھی کم ہو سکتی ہے۔








