تکفیریوں کو سیاسی دھارے میں لانے کی کوششیں
رپورٹ: ایس اے زیدی
گو کہ وطن عزیز پاکستان میں جمہوریت کو کئی مرتبہ مشکلات کا سامنا رہا اور متعدد بار ڈکٹیٹرز شب خون مار کر اقتدار میں آئے، تاہم اس سیاسی نظام کو جہاں بعض اہم سیاستدانوں نے تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، وہیں مختلف مواقع پر شدت پسندی اور تکفیری عناصر کے ذریعے بھی اس نظام کو متاثر کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ کبھی قائد جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کے والد گرامی مفتی محمود مرحوم شیعوں پر گرجے تو کبھی سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق نے پارلیمان میں کفر کے فتوے داغے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پاکستان کے عوام کی ایک غالب اکثریت انتہاء پسندی، تکفیریت اور شدت پسندانہ رجحانات رکھنے والوں کو شروع سے ہی مسترد کرتی آئی ہے، حالیہ انتخابات میں جہاں دیگر سیاسی و مذہبی سیاسی قوتیں بھرپور طریقہ سے تیاریاں کر رہی تھیں، وہیں ایک طرف کالعدم سپاہ صحابہ کے پرچم تلے پرورش پانے والے تکفیری عناصر بھی انتخابات میں اپنا لوہا منوانے کی کوششوں کو سرگرداں ہوگئے، کہیں اس کالعدم جماعت کے رہنماوں نے پاکستان راہ حق پارٹی کے نام سے الیکشن میں حصہ لیا تو کہیں اس گروہ کے افراد آزاد حیثیت سے انتخابات لڑے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ تکفیری جماعت کے کئی امیدوار باقاعدہ شیڈول فور میں شامل تھے اور ان پر کئی مقدمات بھی درج تھے۔ ان میں مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا اورنگزیب فاروقی اور رمضان مینگل قابل ذکر ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ تکفیری رہنماوں میں سے کسی بھی امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد نہیں کئے گئے، انہیں باقاعدہ الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی، واضح رہے کہ الیکشن سے چند روز قبل مولانا احمد لدھیانوی کو شیڈول فور سے نکال دیا گیا تھا۔ ایک جانب جب یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی اور انتہاء پسندی سے مکمل طور پر پاک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس فیصلہ کی کچھ جھلکیاں ہم دیکھ بھی چکے ہیں، ایسے میں تکفیری گروہ کو الیکشن میں پروموٹ کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسلام ٹائمز کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست پاکستان سے دہشتگردی کا مکمل قلع قمع کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے، اور اس حوالے سے کئی آپریشنز اور کارروائیاں سب کے سامنے ہیں، کالعدم تحریک طالبان، جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی سمیت ان جیسی مختلف دہشتگرد تنظیموں کیخلاف پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں، علاوہ ازیں داعش کے خطرے کے حوالے سے بھی پاکستان کی عسکری قیادت بہت حساس ہے۔ تاہم جہاں تک کالعدم سپاہ صحابہ کا تعلق ہے تو اس حوالے سے مقتدر قوتوں کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ اس جماعت کی گو کہ عوام میں کسی نہ کسی سطح پر حمایت، تنظیمی اسٹرکچر اور ایک وجود ہے تو کیوں نہ اس کو سیاسی دھارے میں لایا جائے، اسی پالیسی کے تحت سپاہ صحابہ کو ان الیکشن میں قدرے کھلی چھوٹ دی گئی۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسی پالیسی کے تحت کالعدم سپاہ صحابہ اور بعض شیعہ رہنماوں کی ایک سے زائد ملاقاتیں بھی ارینج کی گئیں، جن میں ریاست نے ثالثی کا کردار ادا کیا، ان ملاقاتوں میں میزبانوں کو کسی حد تک کامیابی بھی ملی، مگر اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ اس پالیسی پر عملدرآمد کروا کر تکفیری گروہ کی جانب سے کفر کے فتووں اور مذہبی انتہاء پسندی کو روکا جاسکتا ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب جبکہ ریاست خطرناک دہشتگردوں کی کافی حد تک سرکوبی کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے، ایسے میں ریاستی وسائل اور قدرت کے ہوتے ہوئے اس تکفیری گروہ کے حوالے سے نرم پالیسی کیوں اپنائی جا رہی ہے۔؟ جب پاکستان کو دہشتگردی، شدت پسندی اور مذہبی منافرت سے پاک کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے تو پھر وہی گڈ اور بیڈ طالبان والی اصطلاح کیا یہاں بھی استعمال کی جا رہی ہے۔؟ کہیں کسی خاص دوست ملک کی جانب سے کوئی سفارش تو نہیں کی گئی۔؟ کیا ریاست ضمانت دے سکتی ہے کہ اس گروہ کا کوئی بھی رہنماء یا کارکن ہمیشہ کیلئے کسی دوسرے مسلک کی تکفیر اور شدت پسندانہ رجحانات سے توبہ کر لے گا۔؟ ان عناصر کو پارلیمان میں لانے سے شدت پسندی میں مزید اضافہ ہوگا یا کمی آئے گی۔؟ یہ وہ سوالات ہیں، جن کا جواب ان قوتوں کو دینا ہوگا، جو اس قسم کی خطرناک پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کی سوچ رکھتی ہیں۔
تکفیریوں کے حوالے سے اس پالیسی کو کاونٹر کرنے کیلئے شیعہ جماعتوں بالخصوص شیعہ علماء کونسل اور مجلس وحدت مسلمین کی قیادت کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا، جن عناصر کے دامن پر شیعہ نوجوانوں کے خون کے دھبے ہوں، ان کیساتھ خانوادگان شہداء اور ملت جعفریہ کسی قسم کی نرمی برداشت کرنے کی پوزیشن میں شائد نہ ہو۔ شیعہ جماعتوں کو دعووں کی بجائے حقیقت پسندانہ رول ادا کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ جھنگ سے مولانا احمد لدھیانوی کو قومی اسمبلی کی نشست پر شکست فاش ہوئی تو دونوں شیعہ جماعتیں اسے اپنی اپنی فتح قرار دیتے ہوئے نظر آئیں، جبکہ الیکشن سے قبل ایک شیعہ جماعت نے شیخ وقاص اکرم اور دوسری نے سیدہ صغریٰ امام کی حمایت کا اعلان کیا۔ جب این اے 115 کی یہ نشست تحریک انصاف کی امیدوار غلام بی بی بھروانہ نے جیت لی اور تکفیری مولوی کو شرمناک شکست ہوئی تو دونوں شیعہ جماعتیں اس فتح کا کریڈٹ لینے کی کوششوں میں نظر آئیں۔ لہذا شیعہ جماعتوں کے کاندھوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حقیقت پسندانہ، مثبت اور حقیقی رول ادا کریں، کم از کم تکفیری گروہ کے حوالے سے انہیں اپنے عوام کو زیادہ موبلائز کرنے کی کوشش نہیں کرنے پڑے گی، کیونکہ ملت جعفریہ اس گروہ کے حوالے سے زیرو ڈالرینس پر کھڑی ہے۔
شیعہ جماعتوں خاص طور پر مجلس وحدت مسلمین (جسکا سیاسی اثر و رسوخ قدرے زیادہ ہے) کو مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص متوقع حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندر تکفیری مائنڈ سیٹ کیخلاف اپنی لابنگ بنانی ہوگی، کیونکہ تکفیری عنصر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے، جہاں تک تکفیری گروہ کے حوالے سے ریاست کی موجودہ پالیسی کا تعلق ہے تو 90ء کی دہائی کی غلطیوں سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی انسان پاگل ہو جائے تو اس کو گولی نہیں مار دی جاتی، بلکہ اس کا علاج کیا جاتا ہے، ہاں اگر کتا باولا ہو جائے تو اسے ضرور گولی ماری جاتی ہے۔ اگر کوئی بیرونی دباو ہے تو اسے مسترد کرنا ہوگا، کیونکہ پاکستان کے امن کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ نئی حکومت پاکستان کے کاندھوں پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی، شدت پسندی اور مذہبی منافرت سے پاک کرنے کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، نئے پاکستان میں ایسے کسی تکفیری گروہ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے، جس نے پاکستان میں خون کی ہولی کھیلی ہو، جنہوں نے کفر کے فتووں کی فیکٹریاں لگا رکھی ہوں۔ اگر قانون پر حقیقی روح کے مطابق عملدرآمد ہو تو نہ کسی کو مسلمانوں کو کافر قرار دینے کی جرات ہوگی، نہ کسی شہری کو قتل کرنے اور نہ ہی مذہبی منافرت پھیلانے کی۔








