امریکہ شام پر حملہ میں اپنے اہداف تک پہنچنے اور اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئے سید حسن نصر اللہ

16 اپریل, 2018 09:24

جنرل سیکرٹری حزب اللہ سید حسن نصراللہ(حفظه الله) نے تاکید فرمائی کہ ہفتے کی صبح تین ملکوں کے اکٹھے ہو کر سوریا پر جنایت کرنے کے خلاف سوریا کی دفاعی ائرڈیفنس نے میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کرنے کی بہترین کارکردگی دکھائی، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ حملہ اسرائیل اور بعض علاقائی ممالک کے مفادات کے توازن کو تبدیل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، اور فرمایا: ” اگر کوئی یہ سمجھے کہ سوریا کے حالات اسرائیل، امریکہ اور بعض علاقائی ممالک کے مفادات کو بدل سکتے ہیں تو وہ وہم کا شکار ہے.”

#مغربی_بقاع کے "مشغرۃ” نامی علاقے میں انتخابی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ(حفظه الله) نے مزید وضاحت فرمائی کہ سوریا کی ائرڈیفنس، جنایت کار ممالک کے داغے گئے میزائلوں کی بڑی تعداد کو ڈیفنس کرنے اور اسکو اپنے اصل اہداف سے پہلے گرانے کی صلاحیت رکھتی ہے، فوجیوں اور سوریا کے آفیسرز کا اس سارے حملے کے دوران اپنے مورچوں میں ثابت قدم رہنا قابلِ ستائش ہے اور یہ چیز ان کی معنویات اور ارادے کو بھی ظاہر کرتی ہے.

سید حسن نصراللہ(حفظه الله) نے اس حملے کا ہدف خالی مقامات اور بعض دیگر مقامات کو قرار دیا کہ جنہیں پہلے بھی ہدف بنایا جا چکا تھا، انکے اہداف میں سے ایک ہدف #بلیک_میلنگ(blackmailing) کی وجہ سے خوف پیدا کرنا تھا جو حاصل نہ ہو سکا، اسی طرح حملے کا مقصد سوریا کی عوام کی معنویات کو ختم کرنے کی کوشش کرنا بھی تھا ” جبکہ نتیجہ یہ نکلا کہ سوریا کی عوام کی معنویات اور بھی بڑھ گئیں”، آپ نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: "بلاشبہ آج سوریا والوں کا اپنے قائد اور اپنی فوج پر اعتماد گزشتہ کسی بھی وقت سے بڑھ چکا ہے”، اسی طرح آپ نے اشارہ فرمایا کہ اس حملے سے مسلحہ جماعتوں کی معنویات کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی گئی، "لیکن اس نتیجے نے ان تمام لوگوں کی امیدوں کو چکنا چُور کر ڈالا”.

سید حسن نصراللہ(حفظه الله) کے مطابق خلیجی ممالک نے ہی امریکی ادارے کو اُبھارا اور اسے سوریا میں وسیع پیمانے پر حملہ کرنے کیلئے بڑی تعداد میں مبلغِ مالی پیش کیا، اور علاقائی ممالک نے ہی اسے دعوے سے کہا کہ یہ حملہ سوریا کی جنگی فضائی طاقت اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران اور اسکے حامیوں کی چھاؤنیوں کو تباہ و برباد کر دے گا.

سید حسن نصراللہ(حفظه الله) نے دوبارہ تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ سوریا میں کسی قسم کا بھی کیمیائی اسلحہ موجود نہیں "لیکن تہمت (اپنی جگہ) باقی رہے گی اور ہم بعید نہیں سمجھتے کہ ہر کامیابی کیساتھ کیمیائی ڈرامہ رچایا جائے اور (دشمن کی طرف سے) نئے حملے کیے جائیں”، لیکن آپ نے اُسی وقت اس چیز کا بھی اظہار فرمایا کہ "امریکہ میں موجود عسکری ذمہ داران اچھی طرح سے آگاہ ہیں کہ سوریا میں وسیع پیمانے پر حملہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا”، آپ نے اپنی پہلی بات پر دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ: "یہ محدود حملہ امریکہ کی واضح طور پر مرکزِ مقاومت کی قوت اور اس(مرکزِ مقاومت کی) اس(دشمن) کو شکست سے دوچار کرنے کی قدرت پر اعتراف ہے جیسا کہ پہلے بھی اس(مرکزِ مقاومت) نے اسے شکست سے دوچار کیا ہے”.

8:19 شام اپریل 20, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔