اسرائیل جنگ بندی پر مجبور، مزاحمت کی تاریخی فتح
شیعیت نیوز: لبنان پر حملے کے بعد خود کو ناقابلِ شکست قرار دینے والا اسرائیل بالآخر جنگ بندی پر آمادہ ہو گیا، جسے مبصرین مزاحمتی قوتوں کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ محض جنگ بندی نہیں بلکہ اسرائیلی قیادت کی عملی شکست کا اعتراف ہے۔
اسرائیل نے جنگ کے آغاز پر بڑے دعوے کیے تھے، جن میں حزب اللہ کے مکمل خاتمے، جنوبی لبنان پر قبضے اور ایک دفاعی بفر زون کے قیام کے منصوبے شامل تھے۔ اسرائیلی فوجی قیادت کی جانب سے جنگ جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا تھا، تاہم زمینی حقائق نے ان تمام دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا۔
لبنان میں مزاحمتی قوتوں نے شدید مزاحمت کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو جنگ بندی کی طرف جانا پڑا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی پوسٹیں دیکھ کر لگتا ہے کہ انکا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے، جیفری سکس
ماہرین کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کی عسکری برتری کے دعووں کو بھی چیلنج کیا ہے۔ جدید ہتھیاروں، فضائی طاقت اور دفاعی نظام کے باوجود اسرائیلی فوج کو غیر معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
جنگ کے بعد اسرائیل کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مختلف چیلنجز درپیش ہیں، جن میں فوجی حوصلے میں کمی، سیاسی دباؤ اور عالمی تنقید شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ عوامل مستقبل میں اسرائیل کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب مزاحمتی قوتوں کے حامی اس پیش رفت کو ایک اہم اور تاریخی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور اسے خطے میں ایک نئے دور کی شروعات سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔







