حملے کی آڑمیں یمن کی زمین اور قدرتی زخائر پر قبضہ
یمنیوں کو آخر کیوں کوریج ملے؟ نہ تو وہ بین الاقوامی مدد مانگ رہے ہیں۔ نہ ہی یمنی پناہ گزینوں کے ریلے کشتیوں میں بھر بھر کے جان بچانے کے لیے بحیرہ قلزم پار کر رہے ہیں۔ نہ ہی وہاں کسی مغربی باشندے کو کسی نے یرغمال بنایا۔ جب یمنی ہی اپنے بحران کی ریٹنگ بڑھانے پر تیار نہیں تو ذرائع ابلاغ کو کیا پڑی کہ فالتو میں اپنا عملہ وہاں فی سبیل اللہ بھیجیں‘‘
یہ سطریں سن 2015میں معروف تجزیہ کار و صحافی وسعت اللہ خان کے بی بی سی اردو کے لئے لکھئے کالم سے اقتباس کی گئی ہیں
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یمن جیسے غریب ملک پر گذشتہ چار سالوں سے برسائی جانے والی آگ اور بہائے جانے والے خون کی جانب کسی کی بھی توجہ نہیں ہے ۔
اور اب اسی عدم توجہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ملک پر جارحیت کرنے والے ممالک یمن کی زمین اور اس کے قدرتی زخائر کی بندر بانٹ میں لگے ہوئے ہیں ۔
سقطری جزیرہ پر متحدہ امارات کا قبضہ
سقطری Socotraجزیرہ در حقیقت چھ چھوٹے چھوٹے جزیروں کے مجموعے پر مشتمل بحر ہند کے قریب بحیرہ عرب میں واقعہ ایک ایسا یمنی جزیرہ ہے کہ جو مشرق سے Horn of Africaہار آف افریقہ کے ساحلوں سے240کلومیٹر توجزیرہ نمائے عرب کے جنوب سے کوئی 300کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔
سن 2008میں اس جزیرے کویونسکو نے دنیا کے منفرد اور غیر معمولی خاصیتوں کے حامل جزیروں میں شامل کیا گیا تھا ۔
یہ جزیرہ ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے جزیرۃ العرب کے اہم ترین جزیروں میں سے ایک شمار ہوتا ہے کہ جس کا رقبہ تقریبا 3796کلومیٹر ہے ۔
اس جزیرے کی جغرافیائی انتہائی اہم پوزیشن نے اسے ایک خاص مقام دیا ہے
ماضی سے لیکر اب تک اس جزیرے کو لیکرعلاقائی و عالمی طاقتوں کے درمیان اس پر قبضے یا اثر ورسوخ کے لئے کشمکش رہی ہے جو اسے اپنی عسکری و اقتصادی اسٹرٹیجک گیرائیStrategic depth
کے طور پر دیکھتے ہیں رہے ہیں
ایک طرف جہاں یہ خلیج عدن کے آخر میں واقع ہے تو دوسری جانب Horn of Africaہار آف افریقہ کی گذرگاہ تو تیسری جانب مغرب کی سمت سے بحرہند کی عالمی تجارتی گذرگاہ پر واقع ہے ۔
تاریخی کتابوں اور ویکیپیڈیا کے مطابق ماضی میں اس جزیرے پر یونانیوں ، فرعونوں کے ساتھ ساتھ فارس کی بادشاہتوں،رومیوں اور پرتگالیوں کا بھی مختلف ادوار میں قبضہ رہا ہے ۔
جبکہ سن 1967میں برطانیہ نے اس پر قبضہ جمایا ہواتھا اور سرد جنگ کے دوران جنوبی یمن کے صودیت یونین بلاک میں ہونے کے سبب روس نے بھی اس جزیرے میں اپنا فوجی اڈہ قائم کیا تھا ۔
جبکہ سرد جنگ کے بعد امریکہ نے بھی بحری قزاقوں سے مقابلے کے بہانے اس جزیرےمیں ایک عرصے تک اپنا فوجی اڈہ قائم کررکھا تھا ۔
جبکہ سن 2010میں امریکی جرنیل جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اس وقت کے یمنی صدر علی عبداللہ صالح سے اس جزیرے پر امریکی واپسی کے بارے میں گفتگو کی تھی ۔
متحدہ عرب امارات ۔۔امداد رسانی سے قبضے تک
ابوظبی نے سقطری جزیرے پر قبضے کے لئے خیراتی ،فلاحی اور کاروباری راستہ اپنایا کہ جس نے سن 2015میں یہاں آنے والے ایک طوفان کے بعد امدای و فلاحی کاموں کے بہانے اس جزیرے پر اپنی رفت و آمد شروع کردی جبکہ اس کے طیارے پورے یمن میں مسلسل آگ اور خون کا بازار گرم کئے ہوئے تھے ۔
امارات نے یمن کے اس جزیرے پر اپنی رفت و آمد اور بظاہر شروع کئے ہوئے فلاحی اور خیراتی کاموں کے لئے اس حکومت سے بھی اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ جس کاصدر منصوری ہادی
گذشتہ چار سالوں سے سعودی عرب میں مقیم ہے ۔
جبکہ سن 2016میں بعض میڈیا ہاوسز نے انکشاف کی کہ یمن کےخودساختہ وزیر اعظم خالد بحاح اور امارات کے درمیان انجام پانے والے ایک معاہدے میں اس اہم ترین جزیرے کو 99سال کے لئے امارات کو کرایے پر دیا گیا ہے کہ جس کی خود ساختہ صدر منصورہادی کی جانب سے نفی کی گئی ۔
موجودہ صورتحال
اس وقت یمن کے اس جزیرے میں مکمل طور پر امارات کا کنٹرول ہے جہاں خود اہل یمن بھی ان کی جازت کے بغیر رفت و آمد نہیں کرسکتے ۔
جزیرے کاائرپورٹ سے لیکر پورٹ تک متحدہ امارات سے لائے گئے افراد کنٹرول کرتے ہیں جبکہ مقامی سطح پر جوانوں کی بھرتیوں سے ایک نئی فورس بنائی جارہی ہے ۔
انٹیلیجنس آن لائن اور میڈل ایسٹ آئی کے مطابق امارات یہاں پراہم عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایک فوجی اڈہ قائم کررہا ہے ۔
یمن کی عوام اور ذمہ دار افراد اماراتی ان اقدامات کو قبضے سے تعبیر کرتے ہوئے مسلسل مطالبہ کررہے ہیں کہ سقطری سمیت دیگر جزیروں سے امارات اور سعودی عرب کو چلے جانا چاہیے یہاں تک کہ یمن پر سعودی جارحیت کے حامی یمنیوں کا بھی کہنا ہے کہ ہماری مدد کے بہانے سے آنے والے ہمیں لوٹ رہے ہیں اور ہم پر قبضہ کررہے ہیں ۔
گذشتہ ماہ فروری 2018یمن کی سعودی حمایت یافتہ خودساختہ پارلیمان نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کی اور اس میں صدر منصور ہادی کی جانب سے انجام دیے گئے تمام معاہدوں کو کالعدم قراردیا گیا اور متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فورا سقطری جزیرے پر اپنا قبضہ ختم کردے ۔
سقطری جزیرے کو لیکرسلطنت عمان میں بے چینی
جزیرے پر امارات کے قبضے نے سلطنت عمان کی بے چینی میں مزید اضافہ کردیا کہ جو پہلے سے ہی یمن کے ساتھ اس کے باڈر پر امارات کی جانب سے پیدا کردہ بے چینی کے سبب سخت تشویش سے دوچار ہے
اومان اسٹیٹ کونسل کے رکن ڈاکٹر اسماعیل الغبری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یمن کے اس جزیرے میں عمان کے قبائل قدیم زمانےسے آباد ہیں ۔
انہوں نے مقامی چینل سے گفتگو میں مزید کہا کہ جزیرۃ العرب میں یمن اور عمان ہی دو ایسی حکومتیں تھیں جو قدیم زمانے سے چلی آرہی ہیں اور سن چھ ہجری سے ہی یہاں عمان کے قبائل بستے چلے آرہے ہیں ۔
ادھر میڈیا کے مطابق سقطری جزیرے میں آنے والے ایک عمانی امدادی سامان سے لدھے طیارے کو امارات نے اترنے سے روک دیا تھا جس کے بعد طرفین میں موجود کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے کو آیا ہے ۔