سعودی جنگ میں پاک فوج کے دستے بھیجنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، یمن جنگ میں پاکستان ثالث بنے ، ایم ڈبلیو ایم
شیعیت نیوز: پاک فوج کے دستوں کو سعودی عرب بھیجے جانے کے اعلان پر مجلس وحدت مسلمین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، ترجمان کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ حجت السلام علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج داخلی و خارجی دشمنوں کے ساتھ برسرپیکار ہے، کسی دوسرے ملک فوج بھیجنے کے متحمل نہیں ہوسکتےانہوںنے کہا کہیمن کے مسئلے پر پاکستان کو فریق بننے کی بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے،پاک فوج کے دستے بھیجنے کا فیصلہ واپس لیا جائے کیونکہ کہ سعودی عرب کی جنگ یہودی و نصاری کی بجائے مسلم ممالک کو زیر کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن پر گذشتہ 3 سالوں سے جارحیت جاری ہے جسکے نتیجے میں وہاں کے مسلمان شدید قحط سالی کا شکار ہیں، جبکہ اس سعودی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں یمنی مسلماں شہید ہوچکے ہیں، لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود یمنی مسلمانوں نے سعودی مظالم کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور وہ استقامت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے سعودیوں کو بھرپور جواب دے رہے ہیں۔
دوسری طرف یمن جنگ میں پھنسے سعودی ولی عہد کو اندورنی طور پر بھی شدید بحران کاسامنا ہے، جبکہ بادشاہت مالی مشکلا ت سے بھی دوچار ہے، ایسے میں انہوںنے اپنے پٹھو اسلامی ممالک کو یمن میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے نام نہاد سعودی(اسرائیلی) اتحاد بھی تشکیل دیا ہےجسکی سربراہی پاکستان کی افواج کے سابق سربراہ جنرل راحیل کررہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے سعودی عرب اپنی فوج کو بھیجنے پر پاکستانی پارلیمنٹ نے شدید اختلاف کیا تھا اور حکومت اور پاک افواج کو یمن و سعودی عرب میں ثالثی کا کرادار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم اچانک پاکستان کے تازہ دم فوجی دستوں کی سعودی عرب تعیناتی کی خبر پر پاکستانی قوم سمیت سیاسی حلقوں کو بھی شدید دھچکا لگا ہے جس پر ایک بار پھر پارلیمنٹ سمیت دیگر حلقوں میں اس موضوع پر بحث گرم ہوگئی ہے۔








