اسلام آباد: داعش کہ خلاف چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس، امریکہ ، اسرائیل اور ہندوستان کی بدترین شکست
شیعیت نیوز: پاکستان، چین ، روس، ترکی، ایران اور افغانستان نے علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب، قومیت، تہذیب، ثقافت یا نسلی گروپ کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے، دہشت گردی ہمارے ممالک سمیت پوری دنیا کیلئے مشترکہ خطرہ ہے، ہم اسکی کسی بھی قسم کی مذمت کرتے ہیں، ہماری حکومتوں کو چاہیے کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں، داعش سنجیدہ خطرہ ہے، کشمیر اورالقدس کے تنازعات عالمی قوانین کے مطابق طے کیے جائیں، پاکستان اور بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں عالمی اور علاقائی امن کو یقینی بنانے کیلئے جموں کشمیر کے تنازع کا پرامن حل نکالیں،دہشت گردی کے نظریات کے پھیلائو اور پروپیگنڈاکی روک تھام کے موثر تعاون ضروری ہے۔ اتوار کو اسلام آباد میں منعقدہ پہلی اسپیکرز کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے گئے29نکاتی مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم بیلٹ و روڈ کے منصوبے کی سپورٹ اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور عالمی تعاون کیلئے مئی 2017ء میں چین میں منعقد بیلٹ و روڈ فورم کی کامیابی کو سراہتے ہیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہم تعلیم‘ انسانی وسائل کی ترقی‘ ثقافتی تبادلوں اور صحت کے ذریعے عوامی سطح پر رابطوں اور تعاون کی حوصلا افزائی کریں گے۔ اعلامیہ میں دہشت گردوں کی جانب سے پارلیمنٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایسے ممالک کی حکومتوں اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ 15 جولائی کو ترکی میں فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے شرپسندوں کو قانون کے کٹھڑے میں لانے کیلئے ترکی کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ مشترکہ اعلامیہ میں القدس کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدامات اور فیصلوں کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مڈل ایسٹ کے مسئلے کا حل عالمی قانون کے مطابق ہونا چاہیئے۔ اعلامیے میں عراق اور شام میں داعش کی شکست کے ضمن میں حاصل کی گئی کامیابیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کیلئے داعش ایک سنجیدہ خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں کی جائیں۔ مشترکہ اعلامیے میں تشدد کے خاتمے اور شامی بحران کے سیاسی حل کیلئے آستانہ فریم ورک کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں ایک ملک کو دوسری ریاستوں کی جانب سے یک طرفہ یا اضافی علاقائی قوانین جو عالمی قوانین‘ اقوام متحدہ کے چارٹر کی نفی ہوں اور خودمختاری اور آزادی کی خلاف ورزی ہوں‘ کے استعمال کو مسترد کرتا ہے۔ اعلامیہ میں اس بات پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے کہ مذاکرات‘ اعتماد سے دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کیلئے مدد کی جائے ۔ اعلامیہ میں کثیرالجہتی سفارتکاری بشمول پار لیما نی سفارتکاری کی حوصلاافزائی کا عزم کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں ممالک معاشروں اور عوام کی سطح پر اقتصادی ترقی کیلئے روابط بڑھانے کیلئے کاوشوں پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں سپیکرز اور وفود کے سربراہان نے پاکستان کی جانب سے سپیکر کانفرنس کی بھرپور اور گرمجوش میزبانی پر سپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔ وفود کے سربراہان اور سپیکرز نے آئندہ سال دوسری سپیکر کانفرنس کا انعقاد تہران میں کرانے پر رضامندی ظاہر کی۔ اعلامیہ میں توثیق کی گئی ہے کہ تمام ممالک تعاون کے ترجیحی علاقوں میں تعاون بڑھائیں گے‘ ایسے بین العلاقائی راوبط بڑھائیں جائیں گے جو تمام شریک ممالک کے درمیان تجارت‘ سرمایہ کاری‘ انفراسٹرکچر‘ سیاحت‘ عوامی سطح پر رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے تمام ممالک کے مفاد میں ہوں۔ مشترکہ اعلامیے میں تمام علاقائی راوبط کے اقدامات پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد کی سپورٹ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے میں شریک ممالک کے درمیان وسائل‘ تجربے‘ اطلاعات کے تبادلے‘ راوبط بڑھانے کیلئے منصوبوں میں سہولتوں کی فراہمی اور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اعلامیے میں راوبط کے فوائد کیلئے پرائیویٹ اور سرکاری شعبوں میں وسیع تر آگاہی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا جن میں اقتصادی مواقعوں کی صلاحیت‘ ورکشاپ‘ سمپوزیم‘ سیمینار‘ بزنس مشن اور کورسز کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے میں تمام ممالک کے درمیان باہمی مفاد‘ بالخصوص سیکورٹی‘ معیشت اور تجارت کے شعبوں میں جامع تعلقات کے فروغ کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔اعلامیے میں ڈرگ ٹریفکنگ اور دہشت گردی و جرائم کی دوسری شکلوں کے بڑھتے ہوئے راوبط پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اعلامیہ میں شریک ممالک کے درمیان خطے اور عوام کیلئے امن‘ خوشحالی اور استحکام کو مضبوط بنانے کیلئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیہ میں علاقائی اور عالمی سطح پر باہمی‘ قریبی اور خوشگوار تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر رضامندی ظاہر کی گئی کہ اقوام متحدہ‘ ایس سی او اور دیگر علاقائی و عالمی تنظیموں کے فریم ورک میں تعاون کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔ مشترکہ اعلا میے میں علاقائی سالمیت‘ خودمختاری‘ سیاسی آزادی اور اپنی ریاستوں کے اتحاد کے عزم کا اظہار کیا گیا۔