صرف دروس کافی نہیں، فکری و سیاسی بیداری بھی لازم ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
شیعیت نیوز : قم المقدسہ میں حوزہ علمیہ ثقلین میں ایک اہم اور صمیمی نشست کا انعقاد ہوا، جس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شرکت کی اور طلاب و علماء سے ایک جامع و بصیرت افروز خطاب کیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں طلابِ حوزہ علمیہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں طالب علم اور عالمِ دین کو صرف حوزوی دروس پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ فکری، سماجی اور سیاسی بیداری کے ساتھ امت کی رہنمائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیو ایم سربراہ کی آیت اللہ اعرافی سے ملاقات، علمی تعاون کے فروغ پر زور
انہوں نے طلاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ، نظم و ضبط، مطالعہ اور اخلاقِ حسنہ کو اپنی زندگی کا بنیادی حصہ بنائیں، کیونکہ یہی صفات ایک حقیقی عالمِ دین کی شناخت ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے درج ذیل اہم نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالی:
-
حدیث «العالم بزمانه» کے پیش نظر، ہمیں علم کے ساتھ اپنے زمانے کے اجتماعی اور سیاسی مسائل پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔
-
طالب علم کو اچھے طریقے سے درس پڑھنے کے ساتھ ساتھ جدید اسلامی تمدن کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا اور اس کی راہ کو مزید ہموار کرنا چاہیے۔
-
طالب علم کو اپنے اندر سماجی اور سیاسی شعور کو پروان چڑھانا چاہیے۔ دشمن صحیح چیزوں کو کم اور جعلی چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتا ہے، اس کی حکمت کو سمجھنا ضروری ہے۔
-
مختلف قوموں کے علماء سے روابط انسان کی فکری وسعت میں اضافہ کرتے ہیں، جس کا فائدہ عملی زندگی میں نمایاں طور پر ہوتا ہے۔
-
غیبت کے زمانے میں رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی مکمل اطاعت لازم ہے، جیسا کہ حزب اللہ نے کی اور اسی میں اس کی کامیابی کا راز ہے۔
-
ہر طالب علم کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے واضح حکمت عملی تیار کرنی چاہیے؛ پہلے اہداف معین ہوں، پھر اس کے مطابق طریقۂ کار طے کیا جائے۔ ہمارا ہدف اسلامی تمدن کا قیام اور امام زمانہؑ کا مددگار بننا ہے۔
-
حکمت عملی رکھنے والا انسان دشمن کے مقابلے میں کبھی ناکام نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پاس معلومات پر مبنی اور صبر و بصیرت والا جواب ہوتا ہے۔
-
طلاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ قم المقدسہ کی علمی اور تہذیبی فضا سے بھرپور استفادہ کر کے اپنے ممالک کی ترقی کے لیے خود کو تیار کریں۔
-
قم میں قیام کو غنیمت جانیں تاکہ بعد میں احساسِ محرومی نہ ہو۔
-
استاد سے گہرا تعلق رکھیں اور وطن واپس جا کر اجتماعی و اخلاقی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دیں۔







