انڈیا و سعودیہ کو دھچکا ؛ چاہ بہار پورٹ کے افتتاح میں پاکستانی وفد کی موجودگی
شیعیت نیوز: رواں ماہ کے ابتدائی ہفتے میں ۳ دسمبر کو ایرانی صدر نے بندرگاہ چاہ بہار کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا، اگر چہ پاکستان اس منصوبے کا حصہ نہیں لیکن افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ میر حاصل بزنجو کی ایرانی صدر حسن روحانی کے پہلو میں موجودگی محض اتفاق نہیں تھا بلکہ وفاقی وزیر کو ایرانی صدر کے ساتھ کھڑا ہونے کی دعوت دی گئی تھی جسے باقاعدہ منظم طور پر دیزائن کیا گیا تھا۔
سینئر ایرانی سفارت کار نے اپنی شناخت نا ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ کچھ دن قبل جب ایران افتتاحی تقریب کے انعقاد کے سلسلے میں تیاریاں شروع کررہا تھا تو ایرانی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کرکے وزارتی سطح کا وفد بھیجنے کی دعوت دی ، تہران کی طرف سے نیہ صرف باقاعدہ دعوت نامہ بھیجا گیا بلکہ تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ پاکستانی وفد تقریب میں لازمی شرکت کریگا۔
اس اقدام کا مقصد بڑا واضح رہے کہ تہران اسلام آباد کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ بھارت سمیت کسی بھی ملک کو چاہ بہار بندرگاہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی قطعی اجازت نہیں دیگا،پاکستان اور ایران کے درمیان جس قریبی تعلق کا اظہار کیا گیا وہ اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آیا،تعلقات کی یہ صورتحال دو ہمسایہ ممالک کے درمیان شاندار تعاون کی طرف پیش رفت ہے۔
واضح رہے کہ اس اقدام سے بھارت اور سعودی عرب کی سازش ناکام ہوگئی ہے جسکے تحت دونوں ممالک کی کوشیش تھی کہ پاکستان اور ایران سے بدگمانیوں کی بنا پر دور کردیا جائے اور پاکستا ن اپنے ایک ہمسائے دوست ملک سے محروم رہے، لیکن ایران اور پاکستان کے سفارتی تعلقات نے بھارتی ، اسرائیلی و سعودی کٹھ جوڑ کے منہ پر کالک مل دی ہے۔










