دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ کاآرمی چیف سے ملاقات کا فخریہ انکشاف، کیا آرمی چیف کے خلاف یہ کوئی نئی سازش تو نہیں ؟
شیعت نیوز: چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا خیبر پختونخوا کے علماء کرام اور مشائخ عظام سے پشاور میں ملاقات میں کالعدم دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ ( اہلسنت و الجماعت ) کہ دہشتگردوں کی علماء کے لباس میں موجودگی محب وطن قوتوں کو افواج پاکستان کہ سربراہ کہ حوالے سے منفی پیغام دے گئی ۔ دہشتگرد تنظیم اہلسنت والجماعت کی نمائندگی شیڈول فور میں نامزد دشتگردعطاء محمد دیشانی نے کی اور ملاقات کہ بعد سوشل میڈیا پہ آرمی چیف سے ملاقات کا بھرپور پروپیگنڈا بھی کیا تاکہ افواج پاکستان کے خلاف عوامی محبت و امید کو مایوسی میں تبدیل کیا جاسکے ۔ مولوی عطا محمد دیشانی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام کہ ذریعہ اس بات کو متراع کیا ہے کہ اس نے آرمی چیف جنرل باجوہ کو ناموس صحابہ واہلبیت بل حوالے کیا اور انہیں شیعہ سنی فسادات کے خاتمے کے لئیے ثالثی پیشکش بھی کی۔ جبکہ دنیا جانتی ہے کے شیعہ و سنی مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں یہی تکفیری ملوث ہیں جو اسلام آباد میں شیعہ مسجد پہ حملہ کرکے معصوم نمازیوں کو شہید کرتےہیں تو دوسری جانب خیرپور میں جلوس میلاد النبی پہ حملہ کرکے ۳ عاشقان مصطفی کو شہید کرتےہیں۔دہشتگرد عطا محمد دیشانی نے اپنے اس سوشل میڈیا پیغام میں مزید دعوی کیاہے کہ اس نے آرمی چیف سے دہشتگرد مفرور مذہبی تکفیریوں کے لئے عام معافی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دہشتگرد سپاہ صحابہ ( اہلسنت و الجماعت ) کہ فسادی ملاؤں ، کارکنان اور دیگر تکفیریوں کی فورتھ شیڈول سے نکالنے کا بھی مطالبہ کردیا۔ اسی طرح چودہ اگست مانسہرہ تا بٹ گرام ریلی پہ پابندی کا مسئلہ بھی اٹھایا جس پر اس کہ مطابق آرمی چیف نے انکوائری کمیٹی قائم کی اور جلد رپورٹپیش کرنے کا حکم ڈی جی ایم آئی کو دیا۔ اہم بات یہ ہےکہ کورکمانڈر کی زیر نگرانی ہونےوالی اس اہم ملاقات میں کالعدم جماعت کہ دہشت گردوں کی شرکت پاکستان کے دلعزیز آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور افواج پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے جسکا افواج پاکستان کو فوری نوٹس لینا چاہئیے اور اس سازش کو فوری خاتمہ کیا جائے کہ افواج پاکستان کے اہم اجلاسوں میں قاتل و درندہ صفت لوگوں کو کون شریک کر اکر آرمی چیف کہ خلاف سازش کررہا ہے۔








