کالعدم دہشت گرد گروہ کا سرغنہ فاروقی کراچی سے الیکشن لڑنے کے لئے سرگرم، نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان

22 نومبر, 2017 13:40

شیعت نیوز: کالعد م دہشت گرد گروہ سپا ہ صحابہ (اہل سنت والجماعت) کے سرغنہ اور خطر ناک دہشت گرد اورنگزیب فاروقی نے کراچی کے حلقہ پی ایس 128سے عام انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔انگریزی روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ (اہل سنت والجماعت) کے سرغنہ دہشت گرد اورنگزیب فاروقی نے کراچی میں فیوچر کالونی جو کے حلقہ پی ایس 128ہے، سے اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جبکہ دوسری جانب دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے تیار کیا جانے والا نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔واضح رہے کہ ماضی کے انتخابات میں بھی دہشت گرد فاروقی نے اسی حلقہ سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور متحدہ قومی موومنٹ کے امید وار کے مقابلے میں چند ووٹوں سے شکست کھائی تھی ۔رپورٹ کے مطابق دہشتگرد گروہ کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی نے پی ایس 128کے علاقوں بالخصوص اپنے رہائشی علاقے فیوچر کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں انتخابات میں حصہ لینے کے عنوان سے ابھی سے مہم شروع کر دی ہے اور علاقہ مکینوں سمیت علاقہ کی با اثر شخصیات اور مساجد کے علماء کو اس مہم کے لئے استعمال کیا جا رہاہے تا کہ آئندہ برس ہونے والے انتخابات سے قبل ہی علاقہ میں خود و ہراس پھیلا کر لوگوں کو اپنے حق میں ووٹ دینے پر قائل کیا جائے۔ایک طرف کالعدم دہشت گرد گروہ کے سرغنہ فاروقی نے اپنے حلقہ انتخاب میں مہم جاری کر رکھی ہے تو دوسری جانب تجزیہ نگاروں اور سیاسی ماہرین کاکہنا ہے کہ حیرت انگیز بات ہے کہ ایک کالعدم دہشت گرد گروہ کا سرغنہ جو خود بھی دہشت گردی میں ملوث رہا ہے کس طرح کھلم کھلا آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے مہم چلا رہا ہے اور نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں بکھیر رہا ہے لیکن ریاستی ادارے اور حکومت اس کی بیخ کنی میں ناکام نظرآتے ہیں۔دوسری جانب ایک اور اہم بات قابل غور ہے کہ کراچی کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کے دعوے کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کہ جن کہ مشترکہ حکومت قائم ہے ، دونوں ہی جماعتوں نے اس حلقہ میں کسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دی ہے اور نہ ہی اس حلقہ میں کسی قسم کا کوئی ترقیاتی کام کیا ہے جو یقیناًکالعدم دہشت گرد گروہ کے سرغنہ فاروقی کی مہم کو تقویت دینے کا باعث بن سکتا ہے۔حالیہ دنوں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت) کے دہشت گرد سرغنہ اورنگزیب فاروقی نے فیوچر کالونی اور داؤد چورنگی کا دورہ کیا اور اپنے انتخابات میں حصہ لینے کے عنوان سے کارنر میٹنگز کی جہاں دہشت گرد فاروقی نے نہ صرف علاقہ کی زبوں حالی کا ذمہ دار پاکستان پیپلز پارٹی کو قرار دیا بلکہ ضلع ملیر میں تمام تر مسائل کی جڑ پاکستان پیپلز پارٹی کو قرار دیا ۔انگریزی روزنامہ کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ(اہلسنت والجماعت)کے ترجمان عمر معاویہ نے ذرائع کو بتایا ہے کہ نہ صرف دہشت گرد فاروقی صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن میں حصہ لے گا بلکہ قومی اسمبلی کی نشست 239پر بھی امید وار کھڑا کیا جائے گا اور اس مرتبہ متحدہ قومی موومنٹ کے نہ ہونے سے یقینی طور پر دہشت گرد فاروقی کو سندھ اسمبلی کی رکنیت حاصل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہکالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت) نے آئندہ برس انتخابات میں بھرپور طور پر حصہ لینے اور امیدواروں کو کھڑا کرنے کے لئے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان کے ساتھ اپنے رابطے مزید بڑھا دئیے ہیں کیونکہ پہلے ہی مولانا فضل الرحمان نے کالعدم دہشت گرد گروہ کے خطر ناک دہشت گرد حق نواز جھنگوی کے بیٹے مسرور نواز جھنگوی کو پی پی 78میں کامیاب کروانے میں کردار ادا کیا تھا۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) پہلے ہی متحدہ مجلس عمل کا حصہ ہے کہ جہاں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت) کا وجود قابل قبول نہیں ہے اگر مولانا فضل الرحمان کی جمات اور قیادت کے کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت) کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط برقرار رہے اور عام انتخابات میں تعاون جاری رکھا گیا تو متحدہ مجلس عمل سے مولانا فضل الرحمان کو نقصان اٹھاناپڑ سکتا ہے۔

9:52 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top