آل سعود کے مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے "بن سلمان” کا ایک اور اقدام

30 اکتوبر, 2017 00:00

ریاض حکومت کے فیصلے کے مطابق سعودی خواتین نئے سال کی ابتدا سے ملک کے تین اسٹیڈیمز میں جا سکیں گی۔

فرانسیسی خبر ایجنسی کےمطابق سعودی حکومت نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اس ملک کی خواتین نئے سال 2018 کے آغاز سے ریاض، جدہ اور الدمام کے تین اسٹیڈیمز میں جا سکیں گی۔

سعودی حکومت نے ابتدائی طور پر ریاض، جدہ اور الدمام کے اسٹیڈیمز میں خواتین کے داخلے کی اجازت دی ہے۔

سعودی وزیر کھیل ترکی آل الشیخ نے کہا ہے کہ بادشاہ کے فرمان کے مطابق اور ان کی معاشرے پر خصوصی توجہ کی بنا پر، 2018 کی ابتداء سے خواتین کےلیے تین اسٹیڈیمز میں داخلہ خاص قواعد و ضوابط کے ساتھ آغاز کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے سعودی شاہ نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کا حکم صادر کیا تھا۔

سعودی عرب اس طرح کی داخلی اصلاحات سے دنیا کی توجہ کو جلب کرنے اور خطے میں ایران، قطر اور یمن کے خلاف اپنی شدت پسند پالیسی کے لیے دنیا کی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

بعض ماہرین نے ریاض پر تنقید کرتے ہوئے یہ اعتراض کیا ہے کہ خواتین کے حقوق میں انقلابی تبدیلی سے بن سلمان چاہتا ہے کہ اپنی حکومت کے خطے میں شدت پسندانہ اقدامات پر تنقید کرنے والوں کی توجہ اصل موضعات سے ہٹائے۔

اس سے پہلے ماہ ستمبر میں تقریبا 20 سے زائد افراد سعودی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب معروف بلاگر "رائف بدوی” تاحال جیل کی ہوائیں کھا رہے ہیں۔

7:55 صبح اپریل 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔