الحشدالشعبی عراق کی امید و آرزو ہے، حیدرالعبادی
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے الحشدالشعبی کے خلاف امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے حالیہ بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی عراق بلکہ پورے علاقے کی ایک امید ہے۔انھوں نے کہا کہ الحشدالشعبی سرکاری فورس کا حصہ ہے جو عراق میں دہشت گردی کے خلاف مہم میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔عراقی وزیراعظم کے دفتر نے بھی پیر کے روز ایک بیان میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ کسی کو عراقیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے، کہا کہ الحشدالشعبی تمام عراقیوں کی فورس ہے جس میں عراقی ہی شامل ہیں۔دوسری جانب عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے ترجمان نے کہا ہے کہ عراق کی عوامی رضاکار فورس کے خلاف بیان دینے پر امریکہ کو الحشدالشعبی سے معافی مانگنی ہوگی -عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے الحشدالشعبی کے خلاف امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹلرسن کا بیان بالکل غلط، نادرست اور بے بنیاد ہے اور عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی صرف عراقیوں پر ہی مشتمل ہے۔انھوں نے ٹلرسن کے بیان کو ان کی ناتجربے کاری اور غیر دانشمندی کا ثبوت اور خون ناحق کو غیر اہم سمجھے جانے کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ عوامی فورس میں عراقی حکومت کی دعوت پر فوجی مشیر شامل ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہونے کے بعد حکومت انہیں واپس چلے جانے کو کہہ دے گی- واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ ریاض میں سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ عراق میں شیعہ جنگجو جو داعش کے خلاف برسرپیکار رہے ہیں اب ان کا کام ختم ہو گیا ہے اس لئے انھیں اب اپنے ملکوں کو واپس چلے جانا چاہئے۔ٹلرسن نے یہ بیان ایسی حالت میں دیا ہے کہ عراق کی الحشدالشعبی میں صرف عراقی گروہ ہی شریک ہیں جو عراق کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی کی خواہش پر رضاکارانہ طور پر اس عوامی فورس میں شامل ہوئے ہیں اور پھر عراقی پارلیمنٹ نے چھبّیس نومبر دو ہزار سولہ کو ایک بل کی منظوری کے ساتھ الحشدالشعبی کو عراق کی سرکاری فوج کا حصہ قرار دیا ہے۔امریکہ چونکہ عراق کی عوامی رضاکار فورس کو اپنے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ پا رہا ہے اس لئے اس نے عراقی کی اس فورس کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا ہے۔واضح رہے کہ دو ہزار چودہ میں داعش دہشت گرد گروہ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں منجملہ سعودی عرب کی حمایت سے عراق پر حملہ کر کے اس ملک کے مختلف علاقوں پر قبضہ اور عوام کا بہیمانہ و ظالمانہ قتل عام شروع کر دیا تھا لیکن اس کے بعد دہشت گردی کے مقابلے میں عراقیوں کی کامیابی اور عراق کی رضاکار عوامی فورس الحشدالشعبی کی جانب سے داعش گروہ پر کاری ضرب اس دہشت گرد گروہ کے زوال اور اس کی شکست کا باعث بنی ہے۔چنانچہ الحشدالشعبی کے لئےعراق کے سرکاری حکام اور عوام خاص طور سے وزیراعظم کی جانب سے حمایت کے اعلان نے عراق میں اس عوامی فورس کے خصوصی مقام کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔








