ذاکرین کے خلاف نادانوں کی جانب سے سوشل میڈیا مہم پر سربراہ ایم ڈبلیو ایم کااہم پیغام

26 جولائی, 2017 00:00

شیعیت نیوز: ذاکرین کے مسئلے کو جس طرح سوشل میڈیا پر اٹھایا جا رہا ہے یہ انداز بہت ہی نامناسب ہے ،یہ انداز اندرونی طور پر ہماری قوم کو الجھا دے گاانہیں گالیاں دے کر اپنے مقدسات کو گالیاں دلوانا یہ کہاں کی عقل مندی ہے ،کچھ لوگ سوشل میڈیا پر نان ایشوز کو ایشوز بنا کر دشمن کی مدد کرتے ہیں ،یہ وقت تھا کہ رہبر انقلاب اسلامی اور مراجع کی بصیرت کے نتیجے میں عراق اور شام میں داعش اور تکفیریوں کو شکست ہوئی ،مقامات مقدسہ محفوظ رہے ،ہم رہبر معظم اور بعض مراجع کے اس عظیم کارنامے کو ہائی لائٹ کرتے اور لوگوں کو جذب کرتے، لیکن ان کی سوشل میڈیا میں تصاویر لگا کر پیروان ولایت کے نام پر ذاکرین کو کنجر اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ کر ایک بے بصیرت طبقے سے جوابا ًاپنے مقدسات کو گالیاں نکلوانا یہ سراسر حماقت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے دوستوں کی خدمت میں عرض هے کہ وہ اپنے آپ کو اس فتنے سے دور رکھیں۔

اس وقت دشمن کو رہبر معظم کی بابصیرت قیادت سے جو ذلت آمیز شکست ہوئی ہے ،وہ اس کے لئے ناقابل برداشت ہے ،دشمن بہت مکار ہے اور فتنہ گر ،لہذا اب جبکہ استکبار جہانی اور عالمی کفر اور تکفیریت اس عظیم قیادت کی وجہ سے شکست کھا رہے ہیں اور عقب نشینی پر مجبور ہیں ،ہر روز نئی فتوحات کا اعلان ہو رہا ہے،ان حالات میں اپنے آپ کو انقلابی کہنے والے اگر دشمن کے گراؤنڈ میں کھیلنا شروع کر دیں یہ سراسر دشمن کے منصوبے کو کامیاب قرار دینے کے مترادف ہے ،کیا کسی کو حق ہے کہ رہبر معظم کی تصاویر لگا کر مخالفین کو ناسزا کہنا ،گالیاں دینا،تمام ذاکرین کو کھلے بندوں تاجر خون حسین کہنا ،یہ کون سا طریقہ ہے ولایت اور اپنے مکتب کے دفاع کا، ہم نے خود ترجیحات کا تعین کرنا ہے ،اور یہ طے کرنا ہے کہ کس طرح بعض مشکلات اور فتنوں کو کاؤنٹر کرنا ہے ۔

الله سبحانہ وتعالیٰ پاکستان میں بسنے والے یتیمان محمد و آل محمد ع پر رحم کرے ،اور انہیں ان فتنوں اور فتنہ گروں کے شر سے محفوظ رکھےمحتاط رہیں وگرنہ 1960 کی دہائی کی طرح کنجر، خون حسین کے تاجر، وہابی،غالی اور مقصر کہنے کی لڑائی ایک بار پھر ولایت کے پرچم تلے شروع کر کے انقلابیوں کو الجھا کر دشمن ہمیں کمزور کرنا چاہتا ہے ،اس کو یمن، فلسطین، آل سعود، شام، عراق، بحرین اور تکفیریت کے حوالے سے آپ کے stands ایک آنکھ نہیں بھاتے، پاکستان کے اندر بھی بہت سی مذہبی اور لبرل جماعتوں کو شیعہ قوم کا اپنے حقوق کے لئے اس طرح نکلنا، اور دن بدن طاقتور ہونا ناقابل برداشت ہے ،لہذا بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے ۔

کیا ذاکرین کو کنجر کہنے سے ان کی یا عام لوگوں کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے ، بات لوگوں کے عقیدہ اوراخلاق سے لا تعلقی کی نہیں بلکہ اس احمقانہ روش کی ہے جو نہ تو حکمت کی حامل ہے اور نہ ہی موعظۃ حسنہ ہے اور نہ ہی جدال احسن جہاں تک تربیت کا تعلق ہے تو آیت الله سعادت پرور جو کہ علامہ طباطبائی کے خاص شاگرد تھے، انہوں اپنے سینکڑوں شاگردوں میں سے بیس پچیس کو تربیت کی اجازت دی۔

میں دوستوں سےمعذرت چاہتا ہوں کہ اس حد تک صراحت کے ساتھ یہ مطالب لکهنا پڑے ان لوگوں کی حماقت کی وجہ سے رہبر معظم اور مراجع کی توہین پڑھ کر میرا دل خون رو رہا ہے۔

10:14 صبح اپریل 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔