سعودی قطرتنازع،مثالیں موجودہیں،ہم نےہمیشہ دوسروں کےمفادکوترجیح دی،حناکھر

12 جون, 2017 00:00

شیعیت نیوز: سعودی عرب اور ایران کے بعد قطر اور سعودی عرب، پاکستان کس طرف جائے گا؟اس موضوع پربات کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہاکہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت نے پاکستان کو کہاں پر کھڑاکیا ہوا ہے ۔

ایک طرف آپ نے دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ اپنے ملک کو کس طرح بچائیں۔حکومت پاکستان کو مشکلات میں دھکیلنے کے سارے آپشن استعمال کرچکی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ پارلیمنٹ نے کہا کہ ہمیں کسی اتحاد کا حصہ نہیں بننا لیکن حکومت نے اجازت دی کہ سابق آرمی چیف اسلامک اتحاد کی سربراہی کرے گا۔

جب آپ ایک ریٹائرڈ ملٹری چیف کو کسی فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کی اجازت دیتے ہیں تو پڑوسی ممالک جیسے کہ ایران ہے اس کو تحفظات ہوں گے۔ یہاں پر قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی جارہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر نے کہا ہمیں ماضی میں بہت ساری ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ ہم نے کسی اور ملک کے کہنے پر ناچتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچایا،ہم نے قومی مفاد کے بجائے ہمیشہ دوسروں کی لائن فالو کی ہے،دوسروں کے مفاد کو ترجیح دی ہے۔

اسلامی فوجی اتحاد اگر صرف و صرف دہشت گردی کے خلاف ہو تو وہ ایک اور بات ہے ۔ دہشت گردی کا مسئلہ اپنے گھر کا ہے اس کے خلاف پہلے اپنی فوج کو تو پوری طرح استعمال کرلیں،پہلے یہاں سے دہشت گردی کا صفایاکریں پھر آپ بیرونی فورسز کاحصہ بنیں۔پاکستان کو اپنی پالیسیاں حقیقت کو مدنظر رکھ کر بنانی چاہیے۔وہ جیو نیوزکے پروگرام’’جرگہ‘‘میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہی تھیں۔

پروگرام میں جماعت اسلامی کے رہنما طارق اللہ اورجمعیت علماءاسلام کے رہنما ملااللہ دادنے بھی اظہار خیال کیا۔پارلیمنٹ کے اراکین اپنی پارلیمنٹ کی توہین کیسے کررہے ہیں؟اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماء صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا اس ملک کا المیہ ہے کہ پارلیمنٹ بنتی ہے،پارلیمنٹ میں لوگ آتے ہیں ، قائد ایوان بھی بن جاتے ہیں اپوزیشن لیڈر بھی بن جاتے ہیں وہ اتنا وقت نہیں دیتے جتنا وقت ان کو دینا چاہیے،ہم کوشش کرتے ہیں کہ کورم کو پوائنٹ آؤٹ نہ کریں لیکن مجبوری میں کرتے ہیں۔

عمران خان پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آتے ؟ اس سوال کے جواب میں صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا عمران خان میرے خیال میں دو تین دفعہ جوائنٹ سیشن میں آئے ہیں،عمران خان نے پارلیمنٹ کو اتنا وقت نہیں دیا جتنا دینا چاہیے تھا۔اس پارلیمنٹ میں اتنی کمزور اپوزیشن میں نے پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی۔

تمام اراکین پارلیمنٹ تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں،ہم کہتے ہیں کہ کم از کم تنخواہ حلال کرنے کے لیے ارکان حاضری لگایا کریں۔جیسی پارلیمنٹ چل رہی ہے ا س لحاظ سے پارلیمنٹ کبھی بھی سپریم نہیں بن سکتی۔اس دوران میزبان سلیم صافی نے اپنے تجزیے میں کہا کہ افغانستان کے بارے میں ہمارے سیاسی اور عسکری قائدین کا اجماع ہے کہ وہاں کے حالات سے پاکستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
افغانستان سے کچھ عرصہ قبل خوش آئندخبر آئی تھی کہ حزب اسلامی کے امیر اور سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار نے مسلح مزاحمت کا راستہ ترک کرکے افغان حکومت سے صلح کے زریعے سیاسی راستہ اپنا لیا ہے۔انھیں افغان حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے بھی نکال دیا گیا اوران کے ساتھیوں کو جیلوں سے بھی رہا کردیا گیا۔

گلبدین حکمت یار سویت یونین کے خلاف مزاحمت کرنے والوں میں سب سے اہم کمانڈر تھے،تیس سال انھوں نے مزاحمت میں گزارے اور مذہبی یا جہادی بیانیہ کے حامل ہونے کی وجہ سے ان کا سیاسی عمل کا حصہ بن جانا جہاں افغان حکومت کے لیے بڑی تقویت کا موجب بنا، وہاں دوسری طرف سے اس طالبان کے مذہبی اور جہادی بیانیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا بھی لگا لیکن ان کی موجودگی بھی سیاسی استحکام کا موجب نہ بن سکی اور ان کی کابل میں موجودگی کے باوجود اس وقت افغانستان میں جوکچھ ہورہا ہے وہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے ۔

آج سے کچھ عرصہ قبل افغانستان کو طالبان کی مزاحمت کا سامنا تھا لیکن اب داعش کا فیکٹر بھی شامل ہوگیا ہے ۔ آج سے کچھ عرصہ قبل وہاں کی حکومت کمزور تھی لیکن اب اس میں بڑی خطرناک دراڑیں بھی پڑ گئی ہیں۔ اب افغان حکومت اور افغان عوام افغانستان کی زبوں حالی کا الزام پاکستان پر لگارہے ہیں،بلوچستان میں افغان طالبان کے لیے چندے کے مراکز، حقیقت کیا ہے؟اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماء مولانا اللہ داد نے کہا جب روس نے افغانستان پرحملہ کیا اور قابض ہوا، اس وقت جنرل ضیاء کی حکومت تھی، پھر مہاجرین کی امداد کا سلسلہ شروع ہوا، امداد کے لیے یہ دفتر قائم ہوئے، تنظیمیں قائم ہوئیں، حرکت انقلاب اسلامی، حزب اسلامی ،یونس خالص وغیرہ وغیرہ کے کھلم کھلا دفاتر قائم کیے گئے۔

ضیاء الحق کی حکومت نے اس عمل کی حمایت کی تو اس وقت میں نے ان دفاتر کی سرپرستی کی تھی۔ لیکن جب امریکا حملہ آور ہوا اور قابض ہوگیا تو بین الااقوامی قانون کی وجہ سے لوگوں نے خیال کیا کہ اگر پاکستان افغانستان میں مداخلت کررہا ہے تو بین الااقوامی قانون کے مطابق صحیح نہیں ہے اور یہ ہمارے ملک پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی درست نہیں ہے تو ہم پاکستانی ہیں، یہاں رہتے ہیں۔ ہم پاکستان میں زندگی بسر کررہے ہیں پاکستان کے قانون کا احترام کررہے ہیں تو پھر ہم ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔

8:31 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top