سعودی اتحاد میں راحیل شریف کی سربراہی، پاکستان کی 75 فیصد آبادی کی رائے کیخلاف فیصلہ ہے، صاحبزادہ حامد رضا
شیعیت نیوز: سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا خان نے کہاکہ پاکستان افواج کے لحاظ سے دنیا کی چھٹی بڑی قوت ہے اور بہترین افواج میں شمار ہوتا ہے اس لئے سعودی عرب اسے اپنے مقاصد کیلئے استمال کرنا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے ہم نہیں سمجھتے کہ انہیں اس اتحاد کا حصہ بننا چاہیئے، پہلے ہی ہم افغان جہاد جس کی ہمارے اکابرین مخالفت کر چکے تھے جن میں شاہ احمد نورانی، میرے والد صاحبزادہ فضل کریم صاحب شامل ہیں، انہوں نے اُس وقت افغان جہاد کا حصہ بننے کی مخالفت کی تھی، اس وقت ہمارے اکابرین نے حکومت اور ذمہ داران پر واضح کیا تھا کہ جس انداز میں آپ امریکی اتحاد کا حصہ بن کر روس کے خلاف جا رہے ہیں اس کے نتائج اور اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ تاریخ نے دیکھا کہ پچیس سال پہلے ان اکابرین جو اب زندہ نہیں ہیں لیکن ان کی کہی گئی بات درست ثابت ہوئی ہے، تو آج ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں اگر آپ سعودی اتحاد میں جائیں گے تو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
ہمیں معلوم ہے کہ داعش سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کی ہی پیدوار ہے، لیکن آپ دنیا کو دکھاوے کیلئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم داعش سے لڑ رہے ہیں، اور اب پاکستان کی سرحدوں پر داعش کو بٹھا دیا گیا ہے،اگر دکھاوے کیلئے ہی سہی داعش کیخلاف لڑیں گے تو وہ پاکستان سے انتقام لے گی کہ آپ نے اپنا آرمی چیف وہاں پر بھیجا۔ گو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اصل مسئلہ داعش نہیں بلکہ یمن ہے، یہ اتحاد ہمارے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، یہ اتحاد سلفیت کو پرموٹ کرنے کیلئے اور اگر صحیح کہیں تو اسلام کو بدنام کرنے کیلئے بنایا جا رہا ہے، یہ اتحاد امریکہ کے ایمان پر بنایا گیا ہے، امریکن ہمیشہ دوست بن کر آپ کی جڑیں کاٹتے ہیں، امریکنز کی جہاد کی پالیسی کی وجہ سے اسلام دہشتگردی کا مذہب بن گیا ہے، جب تک امریکہ اسلامی ممالک کا اتحادی نہیں تھا اس وقت یہ بات نہیں کہی جاتی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے ایک نہیں بہت سارے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی اکثریتی آبادی اہل تشیع اور اہل سنت ہیں جنہیں اکھٹا کریں تو ملک کی مجموعی 75 فیصد آبادی بنتی ہے، اگر 75 فیصد آبادی کا فیصلہ راحیل شریف جانے کے خلاف ہے تو سمجھ لین یہ فیصلہ فطری اصولوں کے منافی ہے۔ جب آپ فطرت کے منافی فیصلہ کرتے ہیں تب آپ کو نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ اس کے اثرات ضرورت مرتب ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ ہمارے لئے ناقابل قبول ہے۔








