سعودی جارحیت کی قیمت یمنی بچے ادا کررہے ہیں
یونیسیف نے سعودی جارحیت کے دو سال پورے ہونے پر عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے حملوں کی سب سے زیادہ قیمت یمن کے بےگناہ بچے ادا کررہے ہیں۔یونیسیف نے یمن پر سعودی حملوں کی دوسری برسی کے موقع پر اپنی رپورٹ شائع کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حملوں کو دو سال مکمل ہوگئے اور اس دوران جس نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا وہ یمن کے بےگناہ بچے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت یمن کے 10 ملین بچے عالمی امداد کے منتظر ہیں۔ ان میں سے سوا دو ملین بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ 2014 سے اب تک یمنی بچوں کی غذائی قلت میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ یمن کے قبرستان چھوٹی چھوٹی بے نام و نشان قبروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یمنی بچوں کی موت کا اعلیٰ حکام کو پتہ نہیں چل پاتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ان کی مظلومیت کو سننے اور دیکھنے والا نہیں ہے۔
یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ65 فیصد یمنی عوام (یعنی قریب 17 ملین افراد) فاقہ کشی پر مجبور ہیں اس لیے وہ اپنے بچوں کے لیے بھی اشیائے خورد و نوش فراہم کرنے سے معذور ہیں۔ 80 فیصد یمنی عوام اپنے بچوں کے لیے اشیائے خورد و نوش فراہم کرنے کی وجہ سے مقروض ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سعودی حملوں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ہزاروں سکول سعودی حملوں کے نتیجے میں تباہ ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2 ملین یمنی بچے تعلیم سے مکمل طور پر محروم ہوچکے ہیں۔