15برسوں میں 450خود کش حملے ، 3700 پولیس اہلکار شہید،72افسران شامل ہیں
شیعیت نیوز: پاکستان میں 2002سے اب تک تقریباً 450خود کش حملوں 3700پولیس اہلکاروں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ ان میں72اعلیٰ افسرا ن بھی شامل ہیں۔ دو سینئر پولیس افسران ڈی آئی جی ٹریفک لاہور کیپٹن(ر) احمد مبین اور ایس ایس پی آپر یشنز زاہد گوندل پیر کو پنجاب اسمبلی کے قریب خود کش بم دھماکے میں شہید ہوئے۔ گزشتہ15برسوں کے دوران خود کش حملوں میں7ہزار سے زائد شہری شہید اور 14ہزار270زخمی ہوئے۔ 750پولیس اہلکار سندھ ، 1457خیبرپختونخوا،450 بلوچستان،370 پنجاب میں اور باقی فاٹا، گلگت و بلتستان اور آزادی کشمیر میں شہید ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6ماہ قبل کوئٹہ میں پولیس اکیڈمی پر مسلح خود کش دہشت گردوں کے حملے میں 60نوجوان اہلکار شہید ہوئے۔2008 میں لاہور میں ہائی کورٹ کے باہر وکلاءکے جلوس پر خود کش حملے میں17اہلکار شہید اور دیگر 80 زخمی ہوئے۔ جنوری2013میں لیاری ایکسپریس وے کراچی پر حملے میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم اور دیگر تین پولیس اہلکاروں نے شہادت پائی۔ اگست2010 میں کمانڈنٹ ایف سی صفوت غیور پشاور دھماکے میں شہید ہوئے۔ کراچی میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ سنٹر کے قریب پولیس اہلکاروں کی بس کو خود کش دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جس میں13اہلکاروں نےجانیں دیں۔ 2007 میں یوم آزادی پر اقبال ٹائون لاہور میں گارڈ کے فرائض انجام دینے9اہلکار دہشت گردی کا نشانہ بنے۔13اہلکار زخمی ہوئے ۔ اس کے علاوہ شبقدر، چار سدہ ، مردان، شکار پور اور لاہور میں مختلف تاریخوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ اپریل2013 میں انسپکٹر شفیق تنولی پرانی سبزی منڈی کراچی کے علاقے میں خود کش حملے میں شہید ہوئے۔ مینگورہ پولیس اسٹیشن میں خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ 16پولیس رنگروٹ شہید اور11زخمی ہوئے۔ میلوڈی مارکیٹ اسلام آباد کے قریب خود حملے میں19پولیس اہلکار شہید اور40زخمی ہوئے۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان پولیس لائنز میں خود کش بمبار نے خود کو دھماکہ سے اڑالیا جس کی زد میں آکر12اہلکار شہید ہوئے۔مئی2015میں قذافی اسٹیڈیم لاہور کے قریب خود کش حملے میں چار اہلکار شہید ہوئے
ماخذ جنگ نیوز








