ایران-امریکہ بحران میں پاکستان کا کردار، ’ایٹمی ثالث‘ کے طور پر ابھرنے کا دعویٰ
شیعیت نیوز : ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک اہم اداریے میں پاکستان کے کردار کو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
اداریے میں کہا گیا ہے کہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے پاکستان خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عراقی مزاحمت کا عرب امارات کو انتباہ، شیشے کے گھر والے دوسروں پر پتھر نہ ماریں
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک غیر جانبدار مقام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں سفارتی بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔
اداریے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ کردار محض سفارتی اہمیت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بھی ہے، کیونکہ ملک طویل جنگ کے معاشی اور سکیورٹی اثرات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
تجزیے کے مطابق پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے درمیان اس معاملے پر غیر معمولی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جس کے تحت ملک کو ایک "سفارتی ریلیف والو” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، پاکستان میں بڑی شیعہ آبادی اور ایران کے ساتھ ثقافتی و مذہبی روابط کو بھی اس ممکنہ ثالثی کردار کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
اداریے کے مطابق پاکستان کی موجودہ سفارتی کوششیں دراصل اپنے معاشی مفادات کے تحفظ اور خطے میں ممکنہ جنگ کے اثرات سے بچاؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔







