آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی کا جائزہ
ایران کے روحانی پیشوا اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی کا مختصر جائزہ۔
تاریخ پیدائش: 17 جولائی 1939ء
مقام پیدائش: مشہد ایران
مکمل نام: سید علی خامنہ ای
والد کا نام: آیتہ اللہ سید جواد حسین خامنہ ای
شادی: 1964ء
اولاد: مصطفےٰ، مجتبیٰ، مسعود، میثم، ہُدا اور بشریٰ
تعلیم: قم (ایران) میں امام خمینی کے شاگرد رہے۔
مذہب: اسلام
عملی زندگی کا جائزہ:
1962ء : امام خمینیؒ کی قیادت میں شاہ ایران کی آمریت کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوئے۔
1977ء: بہت سے دوسرے علماء و مجتہدین کےساتھ شاہ ایران کے خلاف جنگجو علماء ایسوسی ایشن قائم کی جس کو بعد میں اسلامی جمہوریہ جماعت کا نام دیا گیا۔
1980ء-1987ء: اسلامی جمہوریہ جماعت کے ممبر اور جنرل سیکرٹری رہے۔
جون 1980ء: ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹیپ ریکارڈر میں چھپائے گئے بم کے پھٹنے سے زخمی ہوئے۔
13 اکتوبر 1981ء سے 3 اگست 1989ء: ایران کے صدر رہے۔
مارچ 1985ء: ایک بم حملے میں بال بال بچے، جب بم ان کے بالکل نزدیک پھٹا۔
4 جون 1984ء تا حال: امام خمینیؒ کے انتقال کے بعد ان کو اسلامی جمہوریہ ایران کا روحانی پیشوا بنایا گیا۔
28 جولائی 1989ء: ایک قومی ریفرنڈم کے ذریعے آپ کو باضابطہ ایران کا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ علماء کی شوریٰ نے بعد ازاں ان کی کامیابی کی تصدیق کر دی اور آپ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کے عہدے پر باقاعدہ طور پر فائز ہو گئے۔
19 جون 2009ء: 2009ء کے صدارتی انتخابات کے فوراً بعد آیتہ اللہ خامنہ ای نے احتجاج کرنے والوں کو خبردار کیا کہ وہ فوراً اپنا احتجاج ختم کردیں ورنہ نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔
مئی 2011ء: سید علی خامنہ ای اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمد نژاد کے ساتھ اقتدار کے ایک بحران میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
فروری 2012ء: ایک بیان جاری کرتے ہیں کہ ایرانی قوم اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ان کے ساتھ ہے۔
مارچ 2012ء: ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر تشویش کے بارے اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور امریکی صدر کے پاس بیان کو خوش آمدید کہا جس میں امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا پُر امن حل امریکہ، اسرائیل اور دنیا کے مفاد میں ہے۔
مارچ 2012ء: سید علی خامنہ ای الیکشن میں مخالف پارٹی کے امیدوار احمد نژاد کو 64 فیصد ووٹوں سے شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔
21 مارچ 2013ء: ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کے دوران سید علی خامنہ ای نے تل ابیب اور حائفہ کو خبردار کیا کہ ’’یہودی لابی (یعنی اسرائیل) ایران پر فوجی حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اگر انہوں نے معمولی سی بھی حرکت کی تو ایران اسے توڑ کر زمین پر پٹخ دے گا۔
جنوری 2015ء: سید علی خامنہ ای نے اپنی ویب سائٹ پر ایک کُھلا خط جاری کیا جس میں مغرب کے نوجوانوں (یوتھ) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کو چارلی ہیبرو جیسے دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں نہ دیکھیں۔
21 اکتوبر 2015ء: سید علی خامنہ ای نے دُنیا کے چھ بڑے ممالک کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدے کی مشروط توثیق کی ۔ یہ معاہد ہ ایران اور دُنیا کے چھ بڑے ممالک کے درمیان جولائی 2015ء میں طے پایا تھا۔
اس کے بعد سے لیکر اب تک ایران کے روحانی پیشوا اور سپریم لیڈر ایران، دنیا اور عالم اسلام کے ہر اہم پہلو پر اکثر و بیشتر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان کی رائے کو عالم اسلام اور دنیا میں نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔








