خلیج فارس میں ایران کی خفیہ آبدوزیں: پینٹاگون کے لیے نیا سردرد
شیعیت نیوز : برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے ایک ایسی رپورٹ جاری کی ہے جس نے امریکی بحریہ کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اب تک دنیا سمجھ رہی تھی کہ ایران کا اصل ہتھیار اس کے میزائل اور ڈرونز ہیں، لیکن اصل خطرہ تو سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ہوا ہے!
یہ بھی پڑھیں : ایران نے ڈیگو گارشیا میں امریکی و برطانوی بیس کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ
سنسنی خیز اور لرزہ خیز انکشافات:
- مڈجٹ آبدوزوں (Midget Submarines) کا پوشیدہ بیڑا: رپورٹ کے مطابق ایران نے چھوٹی مگر انتہائی مہلک آبدوزوں کا ایک ایسا نیٹ ورک تیار کر لیا ہے جو خلیج کے کم گہرے اور گدلے پانیوں (Shallow and Murky Waters) میں مچھلی کی طرح تیرتی ہیں۔
- 📡 امریکی ٹیکنالوجی بے بس: یہ آبدوزیں اتنی چھوٹی اور خاموش ہیں کہ امریکہ کے جدید ترین جنگی طیارے اور سیٹیلائیٹ سسٹمز بھی انہیں آسانی سے تلاش کرنے یا نشانہ بنانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
- خلیج کی ناکہ بندی کا اصل ہتھیار: یہ "خفیہ بیڑا” خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیجی سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں اور امریکی بیڑوں کو اچانک نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان کی موجودگی کا مطلب ہے کہ امریکہ کا کوئی بھی بحری جہاز اب محفوظ نہیں۔
- خفیہ حملوں کی صلاحیت: ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آبدوزیں سمندر کی تہہ میں بیٹھ کر خاموشی سے بارودی سرنگیں بچھانے اور ٹارپیڈو فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کا پتا تب چلتا ہے جب دھماکہ ہو چکا ہوتا ہے۔







