یمن

سعودی عرب نے یمن پر حملہ کر کے بے شمار جرائم کا ارتکاب کیا ہے،انصار اللہ

شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے جمعہ کی رات یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے اپنے خطاب میں کہا کہ آل سعود حکومت امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور ان کے پٹھوؤں کی مدد سے یمن میں ایک بار پھر آمرانہ نظام برسراقتدار لانا چاہتی تھی لیکن یمنی عوام اور فورسز کی ہوشیاری سے یہ سازش ناکام ہو گئی۔

انھوں نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے مجرموں نے یمن پر جارحیت کا نقشہ تیار کیا، سعودی عرب کو علاقے کے امن میں خلل ڈالنے والا ملک قرار دیا اور کہا کہ ریاض نے رہائشی علاقوں، بنیادی تنصیبات، صحت اور تعلیم کے مراکز پر بمباری اور عام شہریوں کو شہید کر کے یمن کے عوام کے ساتھ اپنی دشمنی کو ثابت کر دیا ہے۔

تحریک انصار اللہ کے سربراہ نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ سعودی عرب نے ہمسائیگی کے حق کو نظرانداز کرتے ہوئے یمن پر حملہ کیا ہے، مزید کہا کہ سعودی عرب نے یہ جرائم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی آڑ میں اور امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے انجام دیے ہیں۔

عبدالملک الحوثی نے سلامتی کونسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی ادارہ صرف سرکش طاقتوں کی سلامتی کا تحفظ کرتا ہے اور اقوام متحدہ کا منشور مظلوم لوگوں کے لیے نہیں بنایا گیا ہے اور یہ صرف استبدادی اور آمرانہ حکومتوں کے مفادات کو پورا کرتا ہے۔ انھوں نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے خلاف سعودی اتحاد دنیا کے مختلف ملکوں سے لوگوں کو خرید کر مزاحمت کے محاذ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے،اور کہا کہ یمن کے عوام خدا پر ایمان اور بھروسہ کرتے ہوئے ظلم اور ذلت کو برداشت نہیں کریں گے۔

عبدالملک الحوثی نے کہا کہ اس جارحیت کا سعودی عرب کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور سعودی حکومت کے لیے اس کے نقصانات اس کے فوائد سے کہیں زیادہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن پر وسیع فوجی جارحیت کے باوجود اس ملک کے عوام بدستور ڈٹے ہوئے ہیں اور جب تک یمن پر جارحیت جاری رہے گی ہم تمام جائز اور قانونی طریقوں سے اس کا مقابلہ اور استقامت و پائیداری کا مظاہرہ کریں گے۔

تحریک انصار اللہ کے سربراہ نے اس خطاب کے دوران اسی طرح بعض ممالک، حکام اور شخصیات خاص طور پر حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ کی جانب سے یمن کے عوام کی حمایت کرنے پر ان کی تعریف کی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button