داعش کے معمالے پر نواز حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کے موقف میں تضاد

12 فروری, 2016 00:00

شیعیت نیوز :پاکستان میں داعش تنظیم کے وجود کے حوالے سے وفاقی حکومت میں دو اہم اداروں سے وابستہ شخصیات کے موقف میں تضاد اس وقت دیکھنے میں آیا جب جمعرات کو وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اس حوالے سے پاکستان میں داعش کے وجود سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس تنظیم کے منظم وجود کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جبکہ محض دو وز قبل انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ سال مئی میں ہونیوالے سانحہ صفورا گوٹھ کے بعد پنجاب بھر میں داعش کا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے اور تنظیم کے سیکڑوں افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔

 خفیہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں داعش کے ابھرنے کا خطرہ اس لئے بھی ہے کہ کئی دہشتگرد تنظیمیں اس کیلئے ہمدردی کا جذبہ رکھتی ہیں اس ضمن میں انہوں نے کالعدم جماعتوں لشکر جھنگوی اورکالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کو داعش کا قابل ذکر ہمدرد قرار دیا ہے۔

 وزارت خارجہ کے نفیس ذکریا جو جمعرات کو ترجمان کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اپنی اولیں پریس بریفنگ کررہے تھے جب استفسار کے ساتھ ان کی توجہ ڈی جی انٹیلی جنس بیورو کے بیان کی طرف مبذول کرائی گئی تو انہوں نے اس پرکسی قسم کا تبصرہ کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات کیلئے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ نواز حکومت کے بار ے میں مشہور ہے کہ وہ کالعدم تکفیری دہشتگردوں جماعتوں کی سپورٹر ہے، جس میں سہر فرست کالعدم سپاہ صحابہ شامل ہے جسکے بارے میں ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے کہا تھا کہ سپاہ صحابہ پاکستان میں داعش کی سب سے بڑی ہمدرد ہے۔

6:23 صبح جون 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔