عراقی عوام نے سعود ی عرب کے سفیر سے عراق چھوڑنے کا مطالبہ کردیا

25 جنوری, 2016 00:00

شیعیت نیوز: عراقی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے حوالے سے سعودی سفیر کے بیان پر انہیں طلب کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ عراق میں تعینات سعودی سفیر ثامر ال سبحان نے ال سماریہ ٹی وی کو انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لیے پیرا ملٹری گروپوں کے اتحاد ’حاشد ال شابی‘ ملیشیا کو داعش کے خلاف جنگ کا معاملہ عراقی آرمی اور دیگر سیکیورٹی فورسز پر چھوڑ دینا چاہیے۔

ثامر ال سبحان کا کہنا تھا کہ حاشد ال شابی نامی فورسز کی سنی عرب اور کرد علاقوں میں ضرورت نہیں، کیونکہ وہ عراقی معاشرے کے بیٹوں کو قابل قبول نہیں۔

عراقی وزارت خارجہ نے سعودی سفیر کے اس بیان کو سفارتی پروٹوکول کی خلاف ورزی اور غلط معلومات پر مبنی قرار دیا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے پیرا ملٹری گروپوں کے اتحاد ’حاشد ال شابی‘ ملیشیا کی حمایت میں جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ ملیشیا دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے ملکی خود مختاری کا دفاع کر رہی ہے اورمسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے احکامات کے تحت کام کر رہی ہے۔

عراقی قانون سازوں کی جانب سے بھی حال ہی میں عراق میں تعینات ہونے والے سعودی سفیر کے بیان کو اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ کچھ نے ثامر ال سبحان کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ ثامر ال سبحان گزشتہ 25 سالوں میں عراق میں تعینات ہونے والے وہ واحد سفیر ہیں جن کا تعلق عراق سے ہے، لیکن سعودی عرب اور عراق کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے باعث عراقی عوام کی بڑی تعداد سعودی عرب کو دہشت گرد گروپوں کا حامی اور عراق کا دشمن سمجھتی ہے۔

حاشد ال شابی کے ترجمان احمد ال اسدی کا سعودی سفیر کے بیان پر کہنا تھا کہ ثامر ال سبحان اُس ملک کے سفیر ہیں جو دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔

انھوں نے سعودی سفیر کو عراق سے نکالنے اور انہیں سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

3:18 شام اپریل 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔