پنجاب میں دہشتگرد کالعدم تنظیمیں کھلے عام کام کررہی ہیں، تجزیہ کار
شیعیت نیوز : سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت دہشتگرد تنظیموں کیخلاف خود کارروائی کر کے اپنی ذمہ داری پوری کرے، پنجاب میں دہشتگرد وکالعدم تنظیمیں کھلے عام کام کررہی ہیں، پنجاب میں دہشتگردوں پر ہاتھ نہ ڈالنے کے پیچھے سیاسی مفادات ہیں، پنجاب کو ابھی تک دہشتگردی کے حقیقی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے، حکومت پاکستان نے یوٹیوب پر پابندی عوامی غم و غصہ کے پیش نظر لگائی تھی، یوٹیوب پر پابندی پاکستانی حکومت کا غلط فیصلہ تھااسے فوری طور پر کھولنا چاہئے، امریکی صدر مزید کئی عشروں تک پاکستان میں عدم استحکام کی بات کررہے ہیں تو یہ انتہائی خطرناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار حفیظ اللہ نیازی، شہزاد چوہدری، مظہر عباسبابر ستار اور امتیاز عالم نے جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ میزبان عائشہ بخش سے کے پہلے سوال دہشتگردی کیخلاف کیا پنجاب حکومت کو خود کارروائی کرنی چاہئے یا رینجرز کو اختیارات تفویض کرنے چاہئیں؟ کا جواب دیتے ہوئے امتیاز عالم نے کہا کہ پنجاب حکومت دہشتگرد تنظیموں کیخلاف خود کارروائی کر کے اپنی ذمہ داری پوری کرے، پنجاب میں دہشتگرد کالعدم تنظیمیں کھلے عام کام کررہی ہیں، خاص طور پر کشمیر فرنٹ پر کام کرنے والی تنظیمیں وہاں کام کررہی ہیں، جنوبی پنجاب کی نسبت سینٹرل پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے زیادہ بڑے مراکز قائم ہیں، پنجاب حکومت دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائی کیلئے پرعزم نظر نہیں آتی ہے، کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی کر کے وہ اپنے گلے مصیبت نہیں ڈالنا چاہتے ہیں، اسلام آباد میں بھی دہشتگردوں کے حامیوں کیخلاف کوئی کارروائی نظر نہیں آتی ہے، پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں فرقہ وارانہ تنظیموں کے 500 نمائندے منتخب ہوئے ہیں۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ پنجاب میں دہشتگردوں پر ہاتھ نہ ڈالنے کے پیچھے سیاسی مفادات ہیں، پنجاب میں رینجرز آپریشن ہوا تو کراچی کی طرح اس کے انچارج بھی کور کمانڈر یا رینجرز کے سربراہ ہوں گے۔حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ پنجاب کو ابھی تک دہشتگردی کے حقیقی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے، بھارت مسعود اظہر سمیت جن لوگوں کے نام لیتا ہے وہ پنجاب میں کھلے عام گھومتے ہیں، پنجاب حکومت کو دہشتگردی کیخلاف خود کارروائی کرنی چاہئے۔ بابر ستار نے کہا کہ پنجاب میں پولیس نفری کی کمی نہیں پالیسی کی وجہ سے کالعدم تنظیموں کے رہنما کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ مظہر عباس نے کہا کہ دہشتگردوں کیخلاف کارروائی صوبائی حکومت کو ہی کرنی چاہئے، لیکن اگر وہ کارکردگی نہ دکھائیں تو ان کا احتساب کرنا چاہئے، رینجرز سرحدی سیکیورٹی فورس ہوتی ہے جو شہری علاقوں میں دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے ناکافی ہے، کراچی کی صورتحال سمجھنے میں بھی رینجرز کو کئی سال لگے ہیں ابھی بھی رینجرز وہاں موثر کاؤنٹر ٹیررازم فورس نہیں ہے، ریاست دہشتگردی کیخلاف پالیسی طے کرے اور پولیس کو غیرسیاسی بنا کر اختیارات اور وسائل دیدے تو پولیس موثر کارروائی کرسکتی ہے۔دوسرے سوال یوٹیوب کا پاکستان ورژن، کیا حکومت کو اب اعلانیہ طور پر پابندی اٹھالینی چاہئے؟ کا جواب دیتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے یوٹیوب پر پابندی عوامی غم و غصہ کے پیش نظر لگائی تھی، ہمیں لوگوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے، یوٹیوب نے اب خود پاکستان کا یوٹیوب ورژن لانچ کردیا ہے جس پر قابل اعتراض مواد کو روکنا آسان ہوگا۔بابر ستار نے کہا کہ یوٹیوب پر پابندی پاکستانی حکومت کا غلط فیصلہ تھااسے فوری طور پر کھولنا چاہئے، انٹرنیٹ مواد کو کنٹرول کرنے کی سوچ بیوقوفانہ ہے