آزربایجان کا شیخ نمر ہر روز پولیس کے شکنجے میں
شیعیت نیوز: پریس ٹی وی کے مطابق حاج طالع باقرزاده کے بھائی الشن باقراف کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت پولیس نے حاج طالع باقرزاده کو کپڑے تبدیل کرنے کی مہلت تک نہیں دی۔
حاج طالع باقرزاده کے وکیل جواد جواداف، کا کہنا ہے کہ حاج طالع باقرزاده کو «اعتراف جرم » کے لیے سخت ترین ریمانڈ کا سامنا ہے اور عدالت میں پیشی کے وقت انکے تمام بدن اور چہرے پر سخت ترین ریمانڈ کے نشانات واضح تھے اور حاج طالع باقرزاده کو گھسیٹ کرلایا جارہا تھا کیونکہ وہ شدت درد کی وجہ سے چل نہیں سکتا تھا
وکیل کے مطابق حاج طالع باقرزاده نے ان سے ملاقات میں کہا ہے کہ ان پر سخت ترین ظلم کیا جارہا ہے اور ریمانڈ میں انکی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے
طالع باقرزاده؛ آزربایجان کا شیخ نمر
شیعہ عالم دین حجتالاسلام طالع باقرزاده کو آزربایجان کا شیخ نمر کہا جاتا ہے ۔ حاج طالع باقرزاده کے وکیل جواد جواداف کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق انکو چوبیس گھنٹے سے زیادہ تھانے میں بند نہیں رکھا جاسکتا اور انکو جیل میں بھجنا چاہیے مگر گذشتہ ڈیڑھ مہینے سے انکو سخت ریمانڈ کے لیے تھانے میں بندرکھا گیا ہے
حاج طالع باقرزاده کو ۲۶ نومبرکو چودہ دیگر افراد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا ہے.
150 شیعہ جوان جیلوں میں قید ہیں
رپورٹ کے مطابق شیعہ علاقے نارداران گذشتہ چالیس دن سے پولیس کے محاصرے میں ہے اور ایک ہفتے سے پانی بھی بندکردیا گیا ہے
اس وقت جیلوں میں ایک سو پچاس شیعہ قیدی موجود ہیں جنمیں سے اٹھارہ عالم دین ہیں
جمهوری آذربایجان کی 9 ملین سے زا ئد کی آبادی میں 85 فیصد آبادی شیعوں کی ہے ۔نارداران میں امام رضا(ع) کی بہن رحیمه خاتون کا مزاربھی موجود ہے.







