ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے میں کون سی شرائط شامل ہیں؟

08 اپریل, 2026 08:45

شیعیت نیوز : ایران کا دس نکاتی امن منصوبہ سامنے آیا، ٹرمپ نے ایران پر بمباری کا فیصلہ دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا، مذاکرات کا مرکز اسلام آباد بن گیا

ایران کی جانب سے پیش کیے گئے دس نکاتی امن منصوبے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں پر بمباری کا فیصلہ دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی تھی، تاہم اب مذاکرات کا مرکز اسلام آباد بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی ڈیموکریٹس کا ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

اگرچہ اس دس نکاتی منصوبے کا کوئی سرکاری یا آفیشل ورژن سامنے نہیں آیا تاہم ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی طرف سے جاری کردہ سمری میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:

  • آبنائے ہرمز کو “ایران کی مسلح افواج کے تعاون کے تحت” دوبارہ کھولا جائے گا۔
  • ایران کے نام نہاد محور مزاحمت کے “تمام اجزاء” کے خلاف جنگ ختم ہونے والی ہے۔
  • امریکی افواج “خطے کے اندر تمام اڈوں اور تعیناتی کے مقامات” سے نکل جائیں گی۔
  • آبنائے ہرمز میں “محفوظ ٹرانزٹ پروٹوکول” کا قیام۔
  • ایران کو معاوضے کی مکمل ادائیگی۔
  • تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ہٹانا۔
  • بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں اور جائیدادوں کی بحالی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو ‘ناقابل قبول’ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے اسے مذاکرات کی ایک قابل عمل بنیاد تسلیم کرتے ہوئے عارضی طور پر فوجی کارروائی روک دی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں کئی ایسے نکات ہیں جو دہائیوں پر محیط امریکی خارجہ پالیسی کے برعکس ہیں، خاص طور پر خطے سے امریکی فوج کا انخلا اور معاوضے کی ادائیگی۔ تاہم ماہرین اسے ایک بڑی تباہی کو روکنے کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں بھاری معاشی نقصان اٹھا رہا تھا، اب اسے فیس سیونگ کا ایک راستہ درکار تھا، جو پاکستان کی کوششوں سے مل گیا۔

10:37 صبح اپریل 8, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔