آیت اللہ سیستانی کی جانب سے الرمادی شہر میں امداد رسانی
عراق کے صوبہ الانبار کے شہر الرمادی کو دھشتگردوں کے قبضے سے آزاد کروائے جانے کے بعد آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کی جانب سے اس شہر کے رہنے والوں میں ضروریات زندگی کی چیزیں تقسیم کی گئی۔
عراقی فوج اور رضاکار فورس نے الرمادی شہر کو پیر کے روز دو ہفتے کی مسلسل لڑائی کے بعد دھشتگرد ٹولے داعش کے قبضے سے آزاد کروا لیا۔
دھشتگردوں کے اس شہر سے صفایا کئے جانے کے بعد جو لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار کر گئے تھے واپس پلٹ کر آ رہے ہیں۔
اس دوران آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کے نمائندوں نے اس شہر میں جنگ زدہ افراد کو امداد رسانی کرتے ہوئے ان کے درمیان ضروریات زندگی کی چیزیں تقسیم کیں۔
علماء نے عورتوں اور بچوں کے درمیان خورد و نوش کی چیزیں تقسیم کر کے ان کی اپنے شہر میں واپس پلٹنے پر حوصلہ افزائی کی۔
واضح رہے کہ عالم تشیع کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے عراق پر داعش کے چڑھائی کے آغاز پر ہی جہاد کفائی کا فتویٰ دے کر اس دھشتگرد ٹولے کے ساتھ مقابلہ کرنے کو واجب قرار دیا جس کے بعد عراقی جوانوں نے بھرپور طریقے سے اپنے ملک کا دفاع کیا اور یہ اسی فتوے کا نتیجہ ہے کہ آج اس خونخوار ٹولے داعش کو شدید شکست کا سامنا ہوا ہے اور عراق کے کئی علاقوں سے اس کا صفایا کر دیا ہے۔








